| جنتی زیور |
تبصرہ:۔سبحان اﷲعزوجل! عمر لمبی ہو اور پھر ساری عمر نیکیوں کے کمانے میں گزر جائے اس سے بڑی خوش نصیبی اور کیا ہوسکتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ام خالد رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بڑی نیک بخت اور خوش نصیب تھیں کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اپنے دست مبارک سے ان کو چادر اوڑھائی اور اپنی مبارک دعاؤں سے ان کو سرفراز کیا جس کا یہ اثر ہوا کہ عمر لمبی ہوئی اور زندگی کا ایک ایک لمحہ نیکیوں اور عبادتوں کی چھاؤں میں گزرا۔
دینی بہنو! تم بھی کوشش کرو کہ جتنی بھی عمر گزرے وہ نیکیوں میں گزرے یہ یقیناً تجارت آخرت ہے کہ جس میں نفع کے سوا کبھی کوئی گھاٹا نہیں ہو سکتا۔(۴۰)حضرت ام ہانی بنت ابو طالب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
یہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بہن ہیں فتح مکہ کے سال ۸ھ میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا ظہور اسلام سے پہلے ہی ان کی شادی ہبیرہ بن ابی وہب کے ساتھ ہوگئی تھی ہبیرہ اپنے کفر پر اڑا رہا اور مسلمان نہیں ہوا ۔
(الاستیعاب ،کتاب کنی النساء،باب الھاء۳۶۵۶،أم ھانی بنت أبی طالب،ج۴،ص۵۱۷)
اس لئے میاں بیوی میں جدائی ہوگئی حضور اقدس صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کے زخمی دل کو تسکین دینے کے لئے ان کے پاس کہلا بھیجا کہ اگر تمہاری خواہش ہو تو میں خود تم سے نکاح کر لوں انہوں نے جواب میں عرض کیا کہ یا رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! جب میں کفر کی حالت میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے محبت کرتی تھی تو بھلا اسلام کی دولت مل جانے کے بعد میں کیوں نہ آپ سے محبت کروں گی؟ لیکن بڑی مشکل یہ ہے کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں مجھے خوف ہے کہ میرے ان بچوں کی وجہ سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ان کا جواب سن کر مطمئن ہوگئے ۔