اس واقعہ کے بعد بھی چند دنوں حضرت اسماء زندہ رہیں مکہ مکرمہ کے قبرستان میں ماں بیٹے دونوں کی مقدس قبریں ایک دوسرے کے برابر بنی ہوئی ہیں جن کو نجدیوں نے توڑ پھوڑ ڈالا ہے مگر ابھی نشان باقی ہے اور ۱۹۵۹ء میں ان دونوں مزاروں کی زیارت میں نے کی ہے رضی اﷲ تعالیٰ عنہما۔
تبصرہ:۔اسلامی بہنو! حضرت بی بی اسماء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی غریبی اور اپنے شوہر کی خدمت اور رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے ان کی محبت پھر ان کی بہادری اور جراء ت واستقلال کے ان واقعات کو بار بار پڑھو اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرو اور یہ بھی سن لو کہ پہلے تو حضرت اسماء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے شوہر بہت غریب تھے مگر بہت ہی بڑے مجاہد تھے بہت زیادہ مال غنیمت میں سے حصہ پایایہاں تک کہ بہت مالدار ہوگئے اور پھر ان کے مالوں میں اس قدر خیر و برکت ہوئی کہ شاید ہی کسی صحابی کے مال میں اتنی خیر و برکت حاصل ہوئی ہوگی۔
یہ ان کی نیک نیتی اور اسلام کی خدمتوں اور عبادتوں کی برکتوں کے میٹھے میٹھے پھل تھے جو ان کو دنیا کی زندگی میں ملے اور آخرت میں اﷲ تعالیٰ نے ان اﷲ والیوں کے لئے جو نعمتوں کے خزانے تیار فرمائے ہیں ان کو تونہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے نہ کسی کے خیال میں آسکتا ہے۔
اے اﷲ کی بندیو! ہمت کرو اور کوشش کرو اور ان نیک بندیوں کے طریقوں پر چلنے کا پختہ ارادہ کر لو ان شاء اﷲ تعالیٰ اﷲجل شانہ کی امداد و نصرت تمہارا بازو تھام لے گی اور ان شاء اﷲ تعالیٰ دنیا و آخرت میں تمہارا بیڑا پار ہو جائے گا بس شرط یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ یہ عزم کر لو کہ ہم ان اﷲ والی مقدس بیبیوں کے نقش قدم پر اپنی زندگی کی آخری