Brailvi Books

جنتی زیور
527 - 676
توشہ سفر ایک تھیلے میں رکھا گیا اور اس تھیلے کا منہ باندھنے کے لئے کچھ نہ ملا تو حضرت بی بی اسماء نے فوراً اپنی کمر کے پٹکے کو پھاڑ کر اس سے توشہ دان کا منہ باندھ دیا اسی دن سے ان کو ذات النطاقین (دوپٹکے والی) کا معزز لقب ملا حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے تو حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے ساتھ ہجرت کی لیکن حضرت اسماء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اس کے بعد اپنے گھر والوں کے ساتھ ہجرت کی ۔
 (الاستیعاب ،باب النساء،باب الالف۳۲۵۹،أسماء بنت ابی بکر،ج۴،ص۳۴۵)
    ۶۳ھ میں واقعہ کربلا کے بعد جب یزید پلید کی فوجوں نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اور حضرت عبداﷲ بن زبیررضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان ظالموں کا مقابلہ کیاا ور یزیدی لشکر کو کتوں اور چوہوں کی طرح دوڑا دوڑا کر مارا اس وقت بھی حضرت اسماء مکہ مکرمہ میں موجود رہ کر اپنے فرزند حضرت عبداﷲ بن زبیر کی ہمت بڑھاتی اور ان کی فتح و نصرت کے لئے دعائیں مانگتی رہیں اور جب عبد الملک بن مروان کے زمانہ حکومت میں حجاج بن یوسف ثقفی ظالم نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اور حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس ظالم کی فوجوں کا بھی مقابلہ کیا تو اس خوں ریز جنگ کے وقت بھی حضرت اسماء مکہ مکرمہ میں اپنے فرزند کا حوصلہ بڑھاتی رہیں یہاں تک کہ جب عبداﷲبن زبیر کو شہید کر کے حجاج بن یوسف نے ان کی مقدس لاش کو سولی پر لٹکا دیا اور اس ظالم نے مجبور کر دیا کہ بی بی اسماء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا چل کر اپنے بیٹے کی لاش کو سولی پر لٹکی ہوئی دیکھیں تو آپ اپنے بیٹے کی لاش کے پاس تشریف لے گئیں جب لاش کو سولی پر دیکھا تو نہ روئیں نہ بلبلائیں بلکہ نہایت جرأ ت کے ساتھ فرمایا کہ سب سوار تو گھوڑوں سے اتر گئے لیکن اب تک یہ سوار گھوڑے سے نہیں اترا پھر فرمایا! کہ اے حجاج! تونے میرے بیٹے کی دنیا خراب کی اور اس نے تیرے دین کو برباد کر دیا ''
Flag Counter