Brailvi Books

جنتی زیور
522 - 676
کہ نہیں ہر گز ہرگز نہیں میں یہ چادر ام کلثوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو نہیں دوں گا بلکہ میری نظر میں اس چادر کی حقدار بی بی ام سلیط رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ہیں خدا کی قسم میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جنگ احد کے دن یہ اور ام المومنین بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا دونوں اپنے کندھوں پر مشک بھر بھر کر لاتی تھیں اور مجاہدین اور زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں اور پھر ام سلیط رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ان خوش نصیب عورتوں میں سے ہیں جو رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے بیعت کر چکی ہیں حضرت امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ فرما کر وہ چادر حضرت ام سلیط رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو عطا فرمادی ۔
(صحیح البخاری،کتاب الجہاد،والسیر،باب حمل النساء القرب الی الناس،رقم۲۸۸۱،ج۲،ص۲۷۶)
(۳۲)حضرت حولاء بنت تُوَ یْت رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ خاندان قریش کی ایک باوقار عورت ہیں شرف صحابیت پایا اور ہجرت کی فضیلت بھی ان کو ملی یہ بہت ہی عبادت گزار صحابیہ ہیں چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ یہ رات بھر جاگ کر عبادت کرتی تھیں ان کا یہ حال سن کر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ سن لو اﷲ تعالیٰ نہیں اکتائے گا بلکہ تمہیں لوگ اکتا جاؤ گے اس لئے تم لوگ اتنے ہی اعمال کرو جتنے اعمال کی تم طاقت رکھتے ہو اپنی طاقت سے زیادہ کوئی عمل مت کیا کرو۔

    حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حولاء بنت تویت نے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کو مکان کے اندر آنے کی اجازت عطا فرمائی اور جب یہ گھر میں آئیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی طرف بہت خصوصی توجہ فرمائی اور ان کی مزاج پرسی فرمائی حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ دیکھ کر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! آپ ان پر اس قدر زیادہ توجہ فرماتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ تو
Flag Counter