Brailvi Books

جنتی زیور
516 - 676
ہوگئے تو بی بی ام سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ اے میرے پیارے شوہر! مجھے یہ مسئلہ بتایئے کہ اگر ہمارے پاس کسی کی کوئی امانت ہو اور وہ اپنی امانت ہم سے لے لے تو کیا ہم کو برا ماننے یا ناراض ہونے کا کوئی حق ہے؟ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہرگز نہیں امانت والے کو اس کی امانت خوشی خوشی دے دینی چاہے شوہر کا یہ جواب سن کر حضرت ام سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ اے میرے سرتاج! آج ہمارے گھر میں یہی معاملہ پیش آیا کہ ہمارا بچہ جو ہمارے پاس خدا کی ایک امانت تھا آج خدا نے وہ امانت واپس لے لی اور ہمارا بچہ مرگیا یہ سن کر حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ چونک کر اٹھ بیٹھے اور حیران ہو کر بولے کہ کیا میرا بچہ مر گیا؟ بی بی نے کہا کہ ''جی ہاں'' حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم نے تو کہا تھا کہ اس کے سانس کا کھنچاؤ تھم گیا ہے بیوی نے کہا کہ جی ہاں مرنے والا کہاں سانس لیتاہے؟ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بے حد افسوس ہوا کہ ہائے میرے بچے کی لاش گھر میں پڑی رہی اور میں نے بھر پیٹ کھانا کھایا اور صحبت کی ۔ بیوی نے اپنا خیال ظاہر کر دیا کہ آپ دن بھر کے تھکے ہوئے گھر آئے تھے میں فوراً ہی اگر بچے کی موت کا حال کہہ دیتی تو آپ رنج و غم میں ڈوب جاتے نہ کھانا کھاتے نہ آرام کرتے اس لیے میں نے اس خبر کو چھپایا حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ صبح کو مسجد نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم میں نماز فجر کے لیے گئے اور رات کا پورا ماجرا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے عرض کردیا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے لیے یہ دعا فرمائی کہ تمہاری رات کی اس صحبت میں اﷲ تعالیٰ خیر و برکت عطا فرمائے اس دعائے نبوی کا یہ اثر ہوا کہ اسی رات میں حضرت بی بی ام سلیم کے حمل ٹھہر گیا اور ایک بچہ پیدا ہوا جس کانام عبداﷲ رکھاگیا اور ان عبداﷲ کے بیٹوں میں بڑے بڑے علماء پیدا ہوئے۔