یہ رشتہ میں ایک طرح سے رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خالہ ہوتی تھیں اور ان کے بھائی حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے ساتھ ایک جہاد میں شہید ہوگئے تھے ان سب باتوں کی وجہ سے رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ان پر بہت مہربان تھے اور کبھی کبھی ان کے گھر بھی تشریف لے جایا کرتے تھے بخاری شریف وغیرہ میں ان کا ایک بہت ہی نصیحت آموز اور عبرت خیز واقعہ لکھا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت ام سلیم کا ایک بچہ بیمار تھا جب حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ صبح کو اپنے کام دھندے کے لئے باہر جانے لگے تو اس بچہ کا سانس بہت زور زور سے چل رہا تھا ابھی حضرت ابوطلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مکان پر نہیں آئے تھے کہ بچہ کا انتقال ہوگیا حضرت بی بی ام سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے سوچا کہ دن بھر کے تھکے ماندے میرے شوہر مکان پر آئیں گے اور بچے کے انتقال کی خبر سنیں گے تو نہ کھانا کھائیں گے نہ آرام کر سکیں گے اس لئے انہوں نے بچے کی لاش کو ایک الگ مکان میں لٹا دیا اور کپڑا اوڑھا دیا اور خود روزانہ کی طرح کھانا پکایا پھر خوب اچھی طرح بناؤ سنگار کر کے بیٹھ کر شوہر کے آنے کا انتظار کرنے لگیں جب حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ رات کو گھر میں آئے تو پوچھا کہ بچہ کا کیا حال ہے؟ تو بی بی ام سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے کہہ دیا کہ اب اس کا سانس ٹھہر گیا ہے حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مطمئن ہو گئے اور انہوں نے یہ سمجھا کہ سانس کا کھنچاؤ تھم گیا ہے پھر فوراً ہی کھانا سامنے آگیا اور انہوں نے شکم سیر ہو کر کھانا کھایا پھر بیوی کے بناؤ سنگار کو دیکھ کر انہوں نے بیوی سے صحبت بھی کی جب سب کاموں سے فارغ ہو کر بالکل ہی مطمئن