Brailvi Books

جنتی زیور
499 - 676
    اب ہم حضور سلطان دو عالم صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم كي ان چار شہزادیوں کا مختصر تذکرہ لکھتے ہیں جو صالحات اور نیک بیبیوں کی لڑی میں آبدار موتیوں کی طرح چمک رہی ہیں۔
(۱۲)حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی سب سے بڑی شہزادی ہیں جو اعلان نبوت سے دس سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں یہ ابتدا ئے اسلام ہی میں مسلمان ہوگئی تھیں اور جنگ بدر کے بعد حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کو مکہ سے مدینہ بلالیا تھا مکہ میں کافروں نے ان پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ان کا تو پوچھنا ہی کیا حد ہوگئی کہ جب یہ ہجرت کے ارادے سے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ سے باہر نکلیں تو کافروں نے ان کا راستہ روک لیا اور ایک بدنصیب کافر جو بڑا ہی ظالم تھا ''ہباربن الاسود'' اس نے نیزہ مار کر ان کو اونٹ سے زمین پر گرا دیا جس کے صدمہ سے ان کا حمل ساقط ہوگیا یہ دیکھ کر ان کے دیور ''کنانہ'' کو جو اگرچہ کافر تھا ایک دم طیش آگیا اور اس نے جنگ کے لئے تیر کمان اٹھا لیا یہ ماجرا دیکھ کر ''ابوسفیان'' نے درمیان میں پڑ کر راستہ صاف کرا دیا اور یہ مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔

    حضور اکرم صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے قلب کو اس واقعہ سے بڑی چوٹ لگی چنانچہ آپ نے ان کے فضائل میں یہ ارشاد فرمایا کہ۔
ھِیَ اَفْضَلُ بَنَاتِیْ اُصِیْبَتْ فِیَّO
    یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے بہت فضیلت والی ہے کہ میری طرف ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔

    پھر ان کے بعد ان کے شوہر حضرت ابو العاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی مکہ سے ہجرت کر
Flag Counter