تاکہ ان کے خاندانی اعزاز واکرام میں کوئی کمی نہ ہونے پائے تم غور سے دیکھو گے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے زیادہ تر جن جن عورتوں سے نکاح فرمایا وہ کسی نہ کسی دینی مصلحت ہی کی بنا پر ہوا کچھ عورتوں کی بے کسی پر رحم فرما کر اور کچھ عورتوں کے خاندانی اعزاز و اکرام کو بچانے کے لئے کچھ عورتوں سے اس بنا پر نکاح فرمالیا کہ وہ رنج و غم کے صدموں سے نڈھال تھیں لہٰذا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کے زخمی دلوں پر مرہم رکھنے کے لئے ان کو اعزاز بخش دیا کہ اپنی ازواج مطہرات میں ان کو شامل کر لیا۔
حضور علیہ الصلوۃ السلام کا اتنی عورتوں سے نکاح فرمانا ہر گز ہرگز اپنی خواہش نفسانی کی بنا پر نہیں تھا اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بیبیوں میں حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے سوا کوئی بھی کنواری نہیں تھیں بلکہ سب عمردراز اور بیوہ تھیں حالانکہ اگر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم خواہش فرماتے تو کون سی ایسی کنواری لڑکی تھی جو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے نکاح کرنے کی تمنا نہ کرتی مگر دربار نبوت کا تو یہ معاملہ ہے کہ شہنشاہ دو عالم صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا کوئی قول فعل کوئی اشارہ بھی ایسا نہیں ہوا جو دنیا اور دین کی بھلائی کے لئے نہ ہو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے جو کہا اور جو کیا سب دین ہی کے لئے کیا بلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے جو کیا اور کہا وہی دین ہے بلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی ذات اکرم ہی مجسم دین ہے۔