Brailvi Books

جنتی زیور
488 - 676
حلال روزی کمانے کا بیان
جاؤ تمہارا شوہر اسی گاؤں میں ہے چنانچہ حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بخیریت مدینہ پہنچ گئیں ۔
(شرح العلامۃ الزرقانی،حضرت ام سلمۃ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا،ج۴،ص۳۹۶۔۳۹۸)
    پھر دونوں میاں بیوی مدینہ میں رہنے لگے چند بچے بھی ہوگئے شوہر کا انتقال ہو گیا تو حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بڑی بے کسی میں پڑ گئیں چند چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیوگی میں زندگی بسر کرنا دشوار ہوگیا ان کا یہ حال زار دیکھ کر رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان سے نکاح فرمالیا اور بچوں کو اپنی پرورش میں لے لیا اس طرح یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر آگئیں اور تمام امت کی ماں بن گئیں حضرت بی بی ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا عقل و فہم' علم و عمل' دیانت و شجاعت کے کمال کا ایک بے مثال نمونہ تھیں اور فقہ و حدیث کی معلومات کا یہ عالم تھا کہ تین سو اَٹھہترحدیثیں انہیں زبانی یاد تھیں مدینہ منورہ میں چوراسی برس کی عمر پاکر وفات پائی ان کے وصال کے سال میں بڑا اختلاف ہے بعض مورخین نے ۵۳ھ بعض نے ۵۹ھ بعض نے ۶۲ھ لکھا ہے اور بعض کا قول ہے کہ ان کا انتقال ۶۳ھ کے بعد ہوا ہے ان کی قبر مبار ک جنت البقیع میں ہے۔
(شرح العلامۃ الزرقانی،حضرت ام سلمۃ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا،ج۴،ص۳۹۹۔۴۰۳)
تبصرہ:۔اﷲاکبر! حضرت بی بی ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی زندگی صبر و استقامت' جذبہ ایمانی' جوش اسلامی' زاہدانہ زندگی' علم و عمل' محنت و جفاکشی' عقل و فہم کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کی مثال مشکل ہی سے مل سکے گی ان کے کارناموں اور بہادری کی داستانوں کو تاریخ اسلام کے اوراق میں پڑھ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ اے آسمان بول! اے زمین بتا! کیا تم نے حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا جیسی شیر دل اور پیکر ایمان عورت کو ان سے پہلے کبھی دیکھا تھا۔
Flag Counter