پھر دونوں میاں بیوی مدینہ میں رہنے لگے چند بچے بھی ہوگئے شوہر کا انتقال ہو گیا تو حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بڑی بے کسی میں پڑ گئیں چند چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیوگی میں زندگی بسر کرنا دشوار ہوگیا ان کا یہ حال زار دیکھ کر رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان سے نکاح فرمالیا اور بچوں کو اپنی پرورش میں لے لیا اس طرح یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر آگئیں اور تمام امت کی ماں بن گئیں حضرت بی بی ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا عقل و فہم' علم و عمل' دیانت و شجاعت کے کمال کا ایک بے مثال نمونہ تھیں اور فقہ و حدیث کی معلومات کا یہ عالم تھا کہ تین سو اَٹھہترحدیثیں انہیں زبانی یاد تھیں مدینہ منورہ میں چوراسی برس کی عمر پاکر وفات پائی ان کے وصال کے سال میں بڑا اختلاف ہے بعض مورخین نے ۵۳ھ بعض نے ۵۹ھ بعض نے ۶۲ھ لکھا ہے اور بعض کا قول ہے کہ ان کا انتقال ۶۳ھ کے بعد ہوا ہے ان کی قبر مبار ک جنت البقیع میں ہے۔