ایک چچا زاد بھائی کو رحم آگیا اور اس نے بنو مغیرہ کو سمجھایا کہ آخر اس غریب عورت کو تم لوگوں نے اس کے شوہر اور بچے سے کیوں جدا کر رکھا ہے؟ کیا تم لوگ یہ نہیں دیکھ رہے ہو کہ وہ ایک پتھر کی چٹان پر ایک ہفتہ سے اکیلی بیٹھی ہوئی بچے اور شوہر کی جدائی میں رویا کرتی ہے آخر بنو مغیرہ کے لوگ اس پر رضا مند ہوگئے کہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اپنے بچے کو لے کر اپنے شوہر کے پاس مدینہ چلی جائے پھر حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے خاندان والوں نے بھی بچہ کو حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے سپرد کر دیا اور حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بچے کو گود میں لے کر ہجرت کے ارادہ سے اونٹ پرسوار ہوگئیں مگر جب مقام ''تنعیم'' میں پہنچیں تو عثمان بن طلحہ راستہ میں ملا جو مکہ کا مانا ہوا ایک نہایت ہی شریف انسان تھا اس نے پوچھا کہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنے شوہر کے پاس مدینہ جارہی ہوں اس نے کہا کہ کیا تمہارے ساتھ کوئی دوسرا نہیں ہے ؟ حضرت ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے درد بھری آواز میں جواب دیا میرے ساتھ میرے اﷲعزوجل اور میرے اس بچہ کے سوا دوسرا کوئی نہیں ہے یہ سن کر عثمان بن طلحہ کو شریفانہ جذبہ آگیا اور اس نے کہا کہ خدا کی قسم میرے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ تمہارے جیسی ایک شریف زادی اور ایک شریف انسان کی بیوی کو تنہا چھوڑدوں یہ کہہ کر اس نے اونٹ کی مہار اپنے ہاتھ میں لی اور پیدل چلنے لگا ۔
حضرت ام سلمہ کا بیان ہے کہ خدا کی قسم میں نے عثمان بن طلحہ سے زیادہ شریف کسی عرب کو نہیں پایا جب ہم کسی منزل پر اترتے تو وہ الگ دور جاکر کسی درخت کے نیچے سو رہتا اور میں اپنے اونٹ پر سو رہتی پھر چلنے کے وقت وہ اونٹ کی مہار ہاتھ میں لے کر پیدل چلنے لگتااسی طرح اس نے مجھے ''قبا'' تک پہنچا دیا اور یہ کہہ کر واپس مکہ چلا گیا کہ اب تم چلی