جب پڑھنے کے قابل ہو جائے تو سب سے پہلے اس کو قرآن شریف پڑھائیں۔ جب کچھ اور زیادہ ہوشیار ہوجائے تو اس کو پاکی و ناپاکی وضووغسل وغیرہ کا اسلامی طریقہ بتائیں اور ہر بات اور ہر کام میں اس کو اسلامی آداب سے آگاہ کرتے رہیں۔ جب وہ سات برس کی ہو جائے تو اس کو نماز وغیرہ ضروریات دین کی باتیں تعلیم کریں اور پردہ میں رہنے کی عادت سکھائیں اور برتن دھونے' کھانے پینے' سینے پرونے اور چھوٹے موٹے گھریلو کاموں کا ہنر بتائیں اور عملی طور پر اس سے یہ سب کام لیتے رہیں اور اس کی کاہلی اور بے پروائی اور شرارتوں پرروک ٹوک کرتے رہیں اور خراب عورتوں اور بد چلن گھرانوں کے لوگوں سے میل جول پر پابندی لگادیں اور ان لوگوں کی صحبت سے بچاتے رہیں۔ عاشقانہ اشعار اور گیتوں اورعاشقی معشوقی کے مضامین کی کتابوں سے،گانے بجانے اور کھیل تماشوں سے دور رکھیں تاکہ بچیوں کے اخلاق و عادات اور چال چلن خراب نہ ہو جائیں۔ جب تک بچی بالغ نہ ہو جائے ان باتوں کا دھیان رکھنا ہر ماں باپ کا اسلامی فرض ہے۔ اگر ماں باپ اپنے ان فرائض کو پورا نہ کریں گے تو وہ سخت گناہ گار ہوں گے۔