Brailvi Books

جنتی زیور
44 - 676
     (۱)عورت کا بچپن(۲)عورت بالغ ہونے کے بعد(۳) عورت بیوی بن جانے کے بعد(۴)عورت ماں بن جانے کے بعد

اب ہم عورت کے ان چاروں زمانوں کا اور ان وقتوں میں عورت کے فرائض اور ان کے حقوق کا مختصر تذکرہ صاف صاف لفظوں میں تحریر کرتے ہیں۔ تاکہ ہر عورت ان حقوق و فرائض کو ادا کرکے اپنی زندگی کو دنیا میں بھی خوشحال بنائے اور آخرت میں بھی جنت کی لازوال نعمتوں اوردولتوں سے سر فراز ہو کر مالا مال ہو جائے۔
(۱) عورت کا بچپن
    عورت بچپن میں اپنے ماں باپ کی پیاری بیٹی کہلاتی ہے اس زمانے میں جب تک وہ نا بالغ بچی رہتی ہے شریعت کی طرف سے نہ اس پر کوئی چیز فرض ہوتی ہے نہ اس پر کسی قسم کی ذمہ داریوں کا کوئی بوجھ ہوتا ہے وہ شریعت کی پابندیوں سے بالکل آزاد رہتی ہے اور اپنے ماں باپ کی پیاری اور لاڈلی بیٹی بنی ہوئی کھاتی پیتی' پہنتی اوڑھتی اور ہنستی کھیلتی رہتی ہے اور وہ اس بات کی حقدار ہوتی ہے کہ ماں باپ' بھائی بہن اور سب رشتہ ناتا والے اس سے پیارو محبت کرتے رہیں اور اس کی دل بستگی اور دل جوئی میں لگے رہیں اور اس کی صحت و صفائی اور اس کی عافیت اور بھلائی میں ہر قسم کی انتہائی کوشش کرتے رہیں تاکہ وہ ہر قسم کی فکروں اور رنجوں سے فارغ البال اور ہر وقت خوش و خرم اورخوشحال رہے جب وہ کچھ بولنے لگے تو ماں باپ پر لازم ہے کہ اس کو اﷲ و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا نام سنائیں پھر اس کو کلمہ وغیرہ پڑھائیں جب وہ کچھ اور زیادہ سمجھدار ہو جائے تو اس کو صفائی ستھرائی کے ڈھنگ اور سلیقے سکھائیں اس کو نہایت پیار ومحبت اور نرمی کے ساتھ انسانی شرافتوں کی باتیں بتائیں اور اچھی اچھی باتوں کا شوق اور بری باتوں سے نفرت دلائیں
Flag Counter