(صحیح مسلم،کتاب اللباس والزینۃ،باب تحریم تصویرصورۃ الحیوان،رقم ۲۱۰۹ص۱۱۶۹ )
ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ تصویر بنانے والے پر خدا کی لعنت ہے۔
(صحیح البخاری،کتاب الطلاق،باب مہر البغی والنکاح الفاسد،رقم ۵۳۴۷،ج۳،ص۵۰۹)
مسئلہ:۔جاندار چیزوں کی تصویر بنانا'بنوانا'اس کا رکھنا ،اس کا بیچنا'خریدنا'حرام ہے ۔ ہاں البتہ غیر جاندار چیزوں جیسے درختوں'مکانوں وغیرہ کی تصویر بنانے اوران کے رکھنے ' ان کی خریدوفروخت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اوپر کی حدیثوں میں جن تصویروں کی ممانعت ہے ان سے مراد جاندار کی تصویریں ہيں۔
مسئلہ:۔کچھ لوگ مکانوں میں زینت کے لئے انسانوں اور جانوروں کی تصویریں یا مورتیاں رکھتے ہیں یہ حرام ہے کچھ لوگ مٹی یا پلاسٹک یا دھاتوں کی مورتیاں بچوں کے کھیلنے کے لئے خریدتے ہیں یہ سب حرام و ممنوع ہیں اپنے بچوں کو اس سے روکنا چاہے اور ایسے کھلونوں اور گڑیوں کو توڑ پھوڑ دینا یا جلا دینا چاہے۔
مسئلہ:۔جانوروں اور کھیتی اور مکان کی حفاظت اور شکار کے لئے کتا پالنا جائز ہے ان مقصدوں کے علاوہ کتا پالنا جائز نہیں۔