مسئلہ:۔بعد نماز عیدین مسلمانوں میں معانقہ کا رواج ہے اور یہ بھی اظہار خوشی کا ایک طریقہ ہے یہ معانقہ بھی جائز ہے بشرط یہ کہ فتنہ کا خوف اور شہوت کا اندیشہ نہ ہو مثلاً خوبصورت امرد لڑکوں سے معانقہ کرنا کہ یہ فتنہ کا محل ہے لہٰذا اس سے بچنا چاہے ۔
مسئلہ:۔کسی مرد کے رخسار یا پیشانی یا ٹھوڑی کو بوسہ دینا اگر شہوت کے ساتھ ہو تو ناجائز ہے اور اگر اکرام و تعظیم کے لئے ہو تو جائز ہے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی دونوں آنکھوں کے درمیان کو بوسہ دیا اور حضرات صحابہ و تابعین رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین سے بھی بوسہ دینا ثابت ہے۔
(بہارشریعت،ج۳،ح۱۶،ص۹۸۔۹۹)
مسئلہ:۔عالم دین اور بادشاہ عادل کے ہاتھ کو بوسہ دینا جائز ہے بلکہ ان لوگوں کے قدم کو چومنا بھی جائز ہے بلکہ اگر کسی عالم دین سے لوگ یہ خواہش ظاہر کریں کہ آپ اپنا ہاتھ یا قدم مجھے دیجئے کہ میں بوسہ دوں تو لوگوں کی خواہش کے مطابق وہ عالم اپنا ہاتھ پاؤں بوسہ کیلئے لوگوں کی طرف بڑھا سکتا ہے ۔
(الدرالمختار،کتاب الحظر والاباحۃ،باب الاستبراء وغیرہ،ج۹،ص۶۳۱۔۶۳۲)
مسئلہ:۔بعض لوگ مصافحہ کرنے کے بعد خود اپنا ہاتھ چوم لیا کرتے ہیں یہ مکروہ ہے ایسا نہیں کرنا چاہے ۔