| جنتی زیور |
اکثر جگہ مصافحہ کرنے کا مسلمانوں میں رواج ہے یہ بھی جائز ہے اور فقہ کی جو بعض کتابوں میں اس کو بدعت کہا گیا ہے اس سے مراد بدعت حسنہ ہے اور ہر بدعت حسنہ جائز ہی ہوا کرتی ہے۔ اور جس طرح نماز فجر و عصر کے بعد مصافحہ جائز ہے دوسری نمازوں کے بعد بھی مصافحہ کرنا جائز ہے کیونکہ جب اصل مصافحہ کرنا جائز ہے تو جس وقت بھی مصافحہ کیا جائے جائز ہی رہے گا جب تک کہ شریعت مطہرہ سے اس کی ممانعت ثابت نہ ہو جائے اور ظاہر ہے کہ پانچوں نمازوں کے بعد مصافحہ کرنے کی کوئی ممانعت شریعت کی طرف سے ثابت نہیں ہے لہٰذا پانچوں نمازوں کے بعد مصافحہ جائز ہے ۔
(الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،باب الاستبراء،ج۹،ص۶۲۸)
مسئلہ:۔مصافحہ کا ایک طریقہ وہ ہے جو بخاری شریف میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا مبارک ہاتھ ان کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں تھا یعنی ہر ایک کا ایک ہاتھ دوسرے کے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں ہو دوسرا طریقہ جس کو بعض فقہا نے بیان کیا ہے اور اس کو بھی حدیث سے ثابت بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنا داہنا ہاتھ دوسرے کے داہنے ہاتھ سے اور بایاں ہاتھ بائیں ہاتھ سے ملائے اور انگوٹھے کو دبائے کہ انگوٹھے میں ایک رگ ہے کہ اس کے پکڑنے سے محبت پیدا ہوتی ہے ۔
(بہارشریعت،ج۳،ح۱۶،ص۹۸)
مسئلہ:۔وہابی غیر مقلد دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنے کو ناجائز اور خلاف سنت بتاتے ہیں اور صرف ایک ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں یہ ان لوگوں کی جہالت ہے حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ نے صاف صاف تحریر فرمایا ہے کہ۔
''ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے اور دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا