مسئلہ:۔چھوٹے جب بڑوں کو سلام کرتے ہیں تو بڑا جواب میں کہتا ہے کہ ''جیتے رہو'' اسی طرح بوڑھی عورتیں بچیوں کے سلام کا جواب اس طرح دیا کرتی ہیں ''خوش رہو'' ''سہاگن بنی رہو''''دودھ پوت والی رہو'' ان سب الفاظ سے سلام کا جواب نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اور ہر مرد و عورت کو سلام کے جواب میں ''وعلیکم السلام'' کہنا چاہے۔
(بہارشریعت،ج۱۶،ص۹۳)
مسئلہ:۔اس زمانے میں کئی طرح کے سلام لوگوں نے ایجاد کر لئے ہیں جن میں سب سے برے الفاظ ''نمستے'' اور ''بندگی عرض'' ہیں مسلمانوں کو کبھی ہر گز ہرگز یہ نہیں کہنا چاہے بعض لوگ ''آداب عرض'' کہتے ہیں اس میں اگرچہ اتنی برائی نہیں مگر یہ بھی سنت کے خلاف ہے۔
(بہارشریعت ج۱۶،ص۹۲)
مسئلہ:۔کوئی شخص تلاوت میں مشغول ہے یا درس و تدریس یا علمی گفتگو میں ہے تو اس کو سلام نہیں کرنا چاہے اسی طرح اذان و اقامت و خطبہ جمعہ و عیدین کے وقت بھی سلام نہ کرے سب لوگ علمی بات چیت کر رہے ہوں یا ایک شخص بول رہا ہو اور باقی سن رہے ہوں دونوں صورتوں میں سلام نہ کرے مثلاً کوئی عالم و عظ کہہ رہا ہے یا دینی مسئلہ پر تقریر کر رہا ہے اور حاضرین سن رہے ہیں تو آنے والا شخص چپکے سے آکر بیٹھ جائے سلام نہ کرے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب السابع فی السلام۔۔۔الخ،،ج۵،ص۳۲۵)
مسئلہ:۔جو شخص پیشاب پاخانہ کر رہا ہو یا کبوتر اڑا رہا ہو یا گانا گا رہا ہو یا ننگا نہا رہا ہو یا پیشاب کے بعد ڈھیلا لے کر استنجا سکھا رہا ہو اس کو سلام نہ کیا جائے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب السابع فی السلام۔۔۔الخ،،ج۵،ص۳۲۶)
مسئلہ:۔جب اپنے گھر میں جائے تو گھر والوں کو سلام کرے' بچوں کے سامنے گزرے