| جنتی زیور |
چلنا یا زمین پر پاؤں پٹک پٹک کر چلنا یا بلا ضرورت دوڑتے ہوئے چلنا یا بلا ضرورت ادھر ادھر دیکھتے ہوئے چلنا یا لوگوں کو دھکا دیتے ہوئے چلنا یہ سب اﷲ تعالیٰ کو نا پسند ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے اس لئے شریعت میں اس قسم کی چال چلنا منع اور ناجائز ہے حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص دو چادریں اوڑھے ہوئے اترا اترا کر چل رہا تھا اور بہت گھمنڈ میں تھا تو اﷲتعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی جائیگا ۔
(صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ،باب تحریم التبختر فی المشی...الخ، رقم۲۰۸۸،ص۱۱۵۶)
ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ چلنے میں جب تمہارے سامنے عورتیں آجائیں تو تم ان کے درمیان میں سے مت گزرو داہنے یا بائیں کا راستہ لے لو ۔
(شعب الایمان،باب فی تحریم الفروج، رقم۵۴۴۷،ج۴،ص۳۷۱)
مسئلہ:۔راستہ چھوڑ کر کسی کی زمین میں چلنے کا حق نہیں ہاں اگر وہاں راستہ نہیں ہے تو چل سکتا ہے مگر جب کہ زمین کا مالک منع کرے تو اب نہیں چل سکتا یہ حکم ایک شخص کے متعلق ہے اور جب بہت سے لوگ ہوں تو جب زمین کا مالک راضی نہ ہو نہیں چلنا چاہے لیکن اگر راستہ میں پانی ہے اور اس کے کنارے کسی کی زمین ہے ایسی صورت میں اس زمین پر چل سکتا ہے ۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الثلا ثون فی المتفرقات،ج۵،ص۳۷۳)
بعض مرتبہ کھیت بویا ہوتا ہے ظاہر ہے کہ اس میں چلنا کاشت کار کے نقصان کا سبب ہے ایسی صورت میں ہرگز اس میں نہ چلنا چاہے بلکہ بعض مرتبہ کاشت کار کھیت کے کنارے پر کانٹے رکھ دیتے ہیں یہ صاف اس کی دلیل ہے کہ اس کی جانب سے چلنے کی