وَلَاتَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوۡرٍ ﴿ۚ18﴾وَاقْصِدْ فِیۡ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنۡ صَوْتِکَ ؕ اِنَّ اَنۡکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیۡرِ ﴿٪19﴾ ۔
اور زمین پر اترا کرمت چلو کوئی اترا کر چلنے والا فخر کرنے والا اﷲ کو پسند نہیں ہے اور درمیانی چال چلو (نہ بہت ہی آہستہ اور نہ بلا ضرورت دوڑ کر) اور بات چیت میں اپنی آواز پست رکھو بے شک سب آوازوں میں بُری آواز گدھے کی آواز ہے۔(پ21،لقمان:18)
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا۔
وَلاَ تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاج اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلاً۔
یعنی تو زمین پر اترا کرمت چل بے شک تو ہر گز نہ تو زمین کو چیر ڈالے گا اور نہ تو بلندی میں پہاڑوں کو پہنچے گا۔
تیسری آیت میں فرمایا کہ ۔
وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ھَوْنًا۔
یعنی رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں۔( پ19،الفرقان:63)
مسئلہ:۔چلنے میں اترا اترا کر چلنا یا اکڑ کر چلنا یا دائیں بائیں ہلتے اور جھومتے ہوئے