| جنتی زیور |
پونچھنے والا دور دور تک نظر نہیں آتا تھا نہ دنیا میں کوئی بھی ان کے دکھ درد کی فریاد سننے والا تھا نہ کسی کے دل میں ان عورتوں کے لئے بال برابر بھی رحم و کرم کا کوئی جذبہ تھا عورتوں کے اس حال زار پر انسانیت رنج و غم سے بے چین اور بے قرار تھی مگر اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ وہ رحمت خداوندی کا انتظار کرے کہ ارحم الراحمین غیب سے کوئی ایسا سامان پیدا فرمادے کہ اچانک ساری دنیا میں ایک انوکھا انقلاب نمودار ہوجائے اور لاچار عورتوں کا سارا دکھ درد دور ہو کر ان کا بیڑاپار ہو جائے چنانچہ رحمت کا آفتاب جب طلوع ہو گیا تو ساری دنیا نے اچانک یہ محسوس کیا کہ ؎
جہاں تاریک تھا' ظلمت کدہ تھا' سخت کالا تھا کوئی پردے سے کیا نکلا کہ گھرگھرمیں اجالا تھا
عورت اسلام کے بعد
جب ہمارے رسول رحمت حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم خدا کی طرف سے ''دین اسلام'' لے کر تشریف لائے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ اور اسلام کی بدولت ظالم مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی اور روندی ہوئی عورتوں کادرجہ اس قدر بلند و بالا ہوگیا کہ عبادات و معاملات بلکہ زندگی اور موت کے ہر مرحلہ اور ہر موڑ پر عورتیں مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں اور مردوں کی برابری کے درجہ پر پہنچ گئیں مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر ہوگئے اور ان کے حقوق کی حفاظت کیلئے خداوندی قانون آسمان سے نازل ہوگئے اوران کے حقوق دلانے کے لئے اسلامی قانون کی ماتحتی میں عدالتیں قائم ہوگئیں عورتوں کو مالکانہ حقوق حاصل ہوگئے چنانچہ عورتیں اپنے مہر کی رقموں' اپنی تجارتوں' اپنی جائدادوں کی مالک بنادی گئیں اور اپنے ماں باپ'بھائی