Brailvi Books

جنتی زیور
40 - 676
تھیں نہ کپڑے بدل سکتی تھیں کھانا پانی اور اپنی ساری ضرورتیں اسی جھونپڑے میں پوری کرتی تھیں بہت سی عورتیں تو گھٹ گھٹ کر مر جاتی تھیں اور جو زندہ بچ جاتی تھیں تو ایک سال کے بعد ان کے آنچل میں اونٹ کی مینگنیاں ڈال دی جاتی تھیں اور ان کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ کسی جانور کے بدن سے اپنے بدن کو رگڑیں پھر سارے شہر کا اسی گندے لباس میں چکر لگائیں اور ادھر ادھر اونٹ کی مینگنیاں پھینکتی ہوئی چلتی رہیں یہ اس بات کا اعلان ہوتا تھا کہ ان عورتوں کی عدت ختم ہوگئی ہے اسی طرح کی دوسری بھی طرح طرح کی خراب اور تکلیف دہ رسمیں تھیں جو غریب عورتوں کے لئے مصیبتوں اور بلاؤں کا پہاڑ بنی ہوئی تھیں اور بے چاری مصیبت کی ماری عورتیں گھٹ گھٹ کر اور رو رو کر اپنی زندگی کے دن گزارتی تھیں ہندوستان میں تو بیوہ عورتوں کے ساتھ ایسے ایسے دردناک ظالمانہ سلوک کئے جاتے تھے کہ جن کو سوچ سوچ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے ہندو دھرم میں ہر عورت کے لئے فرض تھا کہ وہ زندگی بھر قسم قسم کی خدمتیں کرکے " پتی پوجا" (شوہر کی پوجا) کرتی رہے اور شوہر کی موت کے بعد اس کی " چتا" کی آگ کے شعلوں پر زندہ لیٹ کرـ" ستی" ہو جائے یعنی شوہر کی لاش کے ساتھ زندہ عورت بھی جل کر راکھ ہو جائے غرض پوری دنیا میں بے رحم اور ظالم مرد عورتوں پر ایسے ایسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے تھے کہ ان ظلموں کی داستان سن کر ایک دردمند انسان کے سینے میں رنج وغم سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے ان مظلوم اور بیکس عورتوں کی مجبوری و لاچاری کا یہ عالم تھا کہ سماج میں نہ عورتوں کے کوئی حقوق تھے نہ ان کی مظلومیت پر دادوفریاد کے لئے کسی قانون کا کوئی سہارا تھا ہزاروں برس تک یہ ظلم و ستم کی ماری دکھیاری عورتیں اپنی اس بے کسی اور لاچاری پر روتی بلبلاتی اور آنسوبہاتی رہیں مگر دنیا میں کوئی بھی ان عورتوں کے زخموں پر مرہم رکھنے والا اور ان کی مظلومیت کے آنسوؤں کو
بہن اولاد اور شوہر کی میراثوں کی وارث قرار دی گئیں۔ غرض وہ عورتیں جو مردوں کی جوتیوں سے زیادہ ذلیل و خوار اور انتہائی مجبور و لاچار تھیں وہ مردوں کے دلوں کا سکون اور ان کے گھروں کی ملکہ بن گئیں چنانچہ قرآن مجید نے صاف صاف لفظوں میں اعلان فرمادیا کہ۔
Flag Counter