مسئلہ:۔عورتوں کو چوڑی دار تنگ پاجامہ نہیں پہننا چاہے کہ اس سے ان کی پنڈلیوں اور رانوں کی بناوٹ اور شکل ظاہر ہوتی ہے عورتوں کے لئے یہی بہتر ہے کہ ان کے پاجامے غرارے یا ڈھیلے ڈھالے اور نیچے ہوں کہ قدم چھپ جائیں ان کے لئے جہاں تک پاؤں کا زیادہ سے زیادہ حصہ چھپ جائے یہ بہت ہی اچھا ہے۔
مسئلہ:۔مردوں کا پاجامہ یا تہبند ٹخنوں سے نیچا ہونا سخت منع ہے اور اﷲ تعالیٰ کو بہت زیادہ ناپسند ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع فی اللبس،ج۵،ص۳۳۳)
مسئلہ:۔اون اور بالوں کے کپڑے حضرات انبیاء علیہم السلام کی سنت ہیں اور بہت سے اولیا ئے کاملین اور بزرگان دین نے اپنی زندگی بھر ان کپڑوں کو پہنا ہے حدیث میں ہے کہ اون کے کپڑے پہن کر اپنے دلوں کو منور کرو کہ یہ دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں نور ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع فی اللبس،ج۵،ص۳۳۳)
مسئلہ:۔کپڑا دا ہنی طرف سے پہننا مثلاً پہلے دا ہنی آستین داہنا پائینچہ پہننا یہ سنت ہے ۔
نیا لباس پہنتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِحَوْلٍ وَّلَا قُوَّۃٍ O
(سنن ابی داود،کتاب اللباس،باب مایقول اذا لبس ثوبًاجدیدًا،رقم۴۰۲۳،ج۴،ص۵۹)