| جنتی زیور |
خیرات کرنے میں گزارو اور لبیک و درود شریف و کلمہ توحید اور استغفار پڑھتے رہو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ آج کے دن سب سے بہتر وظیفہ میرا اور دوسرے نبیوں کا یہی ہے۔
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیُّ لَّا یَمُوْتُ ؕ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔
اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اسی کے لئے بادشاہی ہے اسی کے لئے حمد ہے وہ زندگی اور موت دیتا ہے اور وہ زندہ ہے وہ نہیں مرے گا اس کے قبضہ میں سب بھلائیاں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے۔
دوپہر ڈھلتے ہی ظہر کی نماز جماعت سے پڑھو ظہر کے فرض پڑھ کر فوراً تکبیر ہوگی اور عصر کی نماز پڑھو یاد رکھو کہ یہ ظہر و عصر ملا کر ظہر کے وقت پڑھنا جبھی جائز ہے کہ نماز یا تو سلطان اسلام پڑھائے یا اس کا نائب میدان عرفات میں جس نے ظہر اکیلے یا اپنی خاص جماعت سے پڑھی اس کو وقت سے پہلے عصر پڑھنا جائز نہیں بلکہ وہ ظہرکو ظہر کے وقت میں اور عصر کو عصر کے وقت میں پڑھے ۔(بہارشریعت،ح۶،ص۸۲)
نماز کے بعد فوراً موقف کو روانہ ہو جائیں موقف وہ جگہ ہے کہ نماز کے بعد سے غروب آفتاب تک وہاں کھڑے ہو کر ذکر الہٰی اور دعا مانگنے کا حکم ہے اگر ہجوم اور اپنی کمزوری کی وجہ سے ''موقف'' میں نہ جا سکو تو اپنے خیمہ ہی میں لبیک پڑھنے اور ذکر و دعا میں آفتاب غروب ہونے تک مشغول رہو اور خبردار اس انمول اور قیمتی وقت کو چائے' بیڑی اڑانے اور گپ لڑانے میں برباد نہ کرو بلکہ آنکھیں بند کئے گردن جھکائے دعامیں ہاتھ آسمان کی طرف سر سے اونچا اٹھا کر پھیلائے تکبیر و تہلیل اور لبیک و دعا اور توبہ و استغفار میں