Brailvi Books

جنتی زیور
354 - 676
مسئلہ:۔روزہ دار کو بلا وجہ کوئی چیز زبان پر رکھ کر چکھنا یا چبا کر اگل دینا مکروہ ہے اسی طرح عورت کو بوسہ دینا اور گلے لگانا اور بدن چھونا بھی مکروہ ہے جب کہ یہ ڈر ہو کہ انزال ہوجائے گا۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم۔۔۔الخ ،ج۱،ص۱۹۹۔۲۰۰)
مسئلہ:۔روزہ دار کے لئے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا بھی مکروہ ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثالث فیما یکرہ۔۔۔الخ ،ج۱،ص۱۹۹)
مسئلہ:۔روزہ دار کو غسل کرنا یا ٹھنڈا پانی ٹھنڈک کے لئے سر پر ڈالنا یا گیلا کپڑا اوڑھنا یا بار بار کلی کرنا یا مسواک کرنا یا سر اور بدن میں تیل کی مالش کرنا یا سرمہ لگانا یا خوشبو سونگھنا مکروہ نہیں ہے۔
 (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصوم، الباب الثالث فیما یکرہ۔۔۔الخ ،ج۱،ص۱۹۹)
روزہ توڑ ڈالنے کا کفارہ:۔اگر کسی وجہ سے رمضان کا یا کوئی دوسرا روزہ ٹوٹ گیا تو اس روزہ کی قضا لازم ہے لیکن بلا عذر رمضان کا روزہ قصداً  کھا پی کر یا جماع کر کے توڑ ڈالنے سے قضا کے ساتھ کفارہ ادا کرنا بھی واجب ہے روزہ توڑ ڈالنے کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام یا لونڈی خرید کر آزاد کرے اور نہ ہو سکے تو لگا تار ساٹھ روزے رکھے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے کفارہ میں روزہ رکھنے کی صورت میں لگا تار ساٹھ روزے رکھنا ضروری ہیں اگر درمیان میں ایک دن کا بھی روزہ چھوٹ گیا تو پھر سے ساٹھ روزے رکھنے پڑیں گے ۔
 (ردالمحتارمع الدرالمختار،کتاب الصوم،مطلب فی الکفارۃ ،ج۳،ص۴۴۷)
کب روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے :۔شرعی سفر' حاملہ عورت کو نقصان پہنچنے
Flag Counter