Brailvi Books

جنتی زیور
297 - 676
سجد ۂ تلاوت کا بیان
    قرآن مجید میں چودہ آیتیں ایسی ہیں کہ جن کے پڑھنے یا سننے سے پڑھنے والے اور سننے والے دونوں پر سجدہ کرنا واجب ہو جاتا ہے اس کو سجدۂ تلاوت کہتے ہیں۔
    (الدرالمختار ،کتاب الصلاۃ، باب سجودالتلاوۃ ،ج۲،ص۶۹۴،۶۹۵)
مسئلہ:۔سجدۂ تلاوت کا طریقہ یہ ہے کہ قبلہ رخ کھڑے ہو کر اﷲاکبر کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین بار
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی
کہے پھر
اَﷲُاَکْبَرْ
کہتا ہوا کھڑا ہو جائے بس' نہ اس میں
اَﷲُاَکْبَرْ
کہتے ہوئے ہاتھ اٹھانا ہے نہ اس میں تشہد ہے نہ سلام۔
    (الدرالمختار ،کتاب الصلاۃ، باب سجودالتلاوۃ ،ج۲،ص۶۹۹،۷۰۰)
مسئلہ:۔اگر آیت سجدہ نماز کے باہر پڑھی ہے تو فوراً  ہی سجدہ کر لینا واجب نہیں ہے ہاں بہتر یہی ہے کہ فوراً  ہی کر لے اور وضو ہو تو دیر کرنی مکروہ تنزیہی ہے۔
        (الدرالمختار ،کتاب الصلاۃ، باب سجودالتلاوۃ ،ج۲،ص۷۰۳)
مسئلہ:۔اگر سجدہ کی آیت نماز میں پڑھی ہے تو فوراً  ہی سجدہ کرنا واجب ہے اگر تین آیت پڑھنے کی مقدار میں دیر لگادی تو  گنہگار ہوگا اور اگر نماز میں سجدہ کی آیت پڑھتے ہی فوراً رکوع میں چلا گیا اور رکوع کے بعد نماز کے دونوں سجدوں کو کر لیا تو اگر چہ سجدۂ  تلاوت کی نیت نہ کی ہو مگر سجدۂ  تلاوت بھی ادا ہو گیا۔
        (الدرالمختار ،کتاب الصلاۃ، باب سجودالتلاوۃ ،ج۲،ص۷۰۵)
مسئلہ:۔نماز میں آیت سجدہ پڑھی تو اس کا سجدہ نماز ہی میں واجب ہے نماز کے باہر یہ سجدہ ادا نہیں ہو سکتا۔
 (الدرالمختار ،کتاب الصلاۃ، باب سجودالتلاوۃ ،ج۲،ص۷۰۵/الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ،الباب الثالث فی سجود التلاوۃ،ج۱،ص۱۳۴)
Flag Counter