Brailvi Books

جنتی زیور
279 - 676
(۵)سجدہ (۶)قعدہ اخیرہ(۷) کوئی کام کرکے مثلاً سلام یا کلام کرکے نماز سے نکلنا۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ ،الباب الرابع، الفصل الاول، ج۱،ص۶۸۔۷۰)
تکبیر تحریمہ کا یہ مطلب ہے کہ اﷲاکبر کہہ کر نماز کو شروع کرنا۔
    (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ،الباب الرابع،الفصل الاول،ج۱،ص۶۸)
نماز میں بہت مرتبہ اﷲاکبر کہا جاتا ہے۔ مگر شروع نماز میں پہلی مرتبہ جو اﷲاکبرکہتے ہیں اس کا نام تکبیر تحریمہ ہے یہ فرض ہے۔اس کو اگر چھوڑ دیا تو نماز ہوگی ہی نہیں۔
(الفتاوی القاضی خان، کتاب الصلوۃ،باب افتتاح الصلوۃ،ج۱،ص۳۸۔ردالمحتار،کتاب الصلوۃ،مطلب قد یطلق الفرض علی ما یقابل...إلخ، ج۲، ص۱۵۸)
مسئلہ:۔قیام فرض ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا ضروری ہے۔ تو اگر کسی مرد یا عورت نے بغیر عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھی تو اس کی نماز ادا نہیں ہوئی۔
    (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ،الباب الرابع،الفصل الاول،ج۱،ص۶۸)
ہاں نفل نماز کو بلا عذر کے بھی بیٹھ کر پڑھے تو یہ جائز ہے۔

مسئلہ:۔قرأت فرض ہونے کا یہ مطلب ہے کہ فرض کی دو رکعتوں میں اور وتر و نوافل اور سنتوں کی ہر ہر رکعت میں قرآن شریف پڑھنا ضروری ہے۔
 (مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی ،ص۲۲۶)
تو اگر کسی نے ان رکعتوں میں قرآن نہیں پڑھا تو اس کی نماز نہ ہوگی۔
    (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلوۃ،الباب الرابع،الفصل الاول،ج۱،ص۶۹)
مسئلہ:۔رکوع کا ادنی درجہ یہ ہے کہ اتنا جھکیں کہ ہاتھ بڑھائیں تو گھٹنے تک پہنچ جائیں۔ اور پورا رکوع یہ ہے کہ اتنا جھکے کہ پیٹھ سیدھی بچھا دے۔
    (ردالمحتار،کتاب الصلوۃ، باب بحث الرکوع والسجود ، ج۲،ص۱۶۶)
Flag Counter