کہے۔ پھر ذراٹھہر کر دومرتبہ
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَللہُ
کہے پھر دو مرتبہ ٹھہر ٹھہر کر
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲ ؕ
کہے پھر داہنی طرف منہ پھیر کر دو مرتبہ
کہے پھر بائیں طرف منہ کر کے دو مرتبہ
حَیَّ عَلَی الْفَلَا حِ ؕ
کہے۔ پھر قبلہ کی طرف کو منہ کرے اور
(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلاۃ،الباب الثانی، الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ وکیفیتھا،ج۱،ص۵۵۔۵۶)
الصَّلوٰۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ
(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلاۃ،الباب الثانی، الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ وکیفیتھا،ج۱،ص۵۵)
اذان کے بعد پہلے درود شریف پڑھے۔ پھر اذان پڑھنے والا اور اذان سننے والے سب دعا پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّا مَّۃِ وَ الصَّلوٰۃِ الْقَآئِمَۃِ اٰتِ سَیِّدَنَا مُحَمَّدَ نِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیْعَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَاماً مَّحْمُوْدَانِ الَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ وَارْزُقْنَا شَفَا عَتَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ O
(السنن الکبری للبیہقی، کتاب الصلاۃ، باب مایقول اذا فرغ من ذالک،رقم۱۹۳۳،ج۱،ص۶۰۳)
اذان کا جواب:۔جب اذان سنے تو اذان کا جواب دینے کا حکم ہے۔ اوراذان کے