Brailvi Books

جنتی زیور
263 - 676
مسئلہ:۔اذان کے درمیان بات چیت منع ہے۔ اگر موذن نے اذان کے بیچ میں کوئی بات کرلی تو پھر سے اذان کہے۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی، الفصل الاول فی صفتہ واحوال المؤذن،ج۱،ص۵۵)
مسئلہ:۔ہر اذان یہاں تک کہ خطبہ جمعہ کی اذان بھی مسجد کے باہر کہی جائے۔ مسجد کے اندر اذان نہ پڑھی جائے۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی، الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ وکیفیتھما،ج۱،ص۵۵)
مسئلہ:۔جب اذان ہو تو اتنی دیر کے لئے سلام' کلام اور سلام کا جواب اور ہر کام موقوف کر دے۔ یہاں تک کہ قرآن شریف کی تلاوت میں اذان کی آواز آئے تو تلاوت روک دے اور اذان کو غور سے سنے اور جواب دے اور یہی اقامت میں بھی کرے۔
(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلاۃ ، الباب الثانی ، الفصل الثانی،ومما یتصل بذالک اجابۃ المؤذن ،ج۱،ص۵۷)
مسئلہ:۔جو شخص اذان کے وقت باتوں میں مشغول رہے۔ اس پر معاذاﷲ خاتمہ برا ہونے کا خوف ہے۔
        (بہارشریعت، ح۳،ج۱،ص۳۶)
مسئلہ:۔فرض نمازوں اور جمعہ کی جماعتوں کے علاوہ دوسرے موقعوں پر بھی اذان کہی جاسکتی ہے۔ جیسے پیدا ہونے والے بچے کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت۔ اسی طرح مغموم کے کان میں' مرگی والے اور غضبناک اور بد مزاج آدمی اور جانور کے کان میں' جنگ اور آگ لگنے کے وقت' جنوں اور شیطانوں کی سرکشی کے وقت' جنگل میں راستہ نہ ملنے کے وقت' میت کے دفن کرنے کے بعد ان صورتوں میں اذان پڑھنا مستحب ہے۔
(الردالمحتارمع الدرالمختار،کتاب الصلوٰۃ ، مطلب: فی مواضع الشئی یندب لھا الاذان، ص۶۲۔۶۳)
Flag Counter