مسئلہ:۔جب اذان ہو تو اتنی دیر کے لئے سلام' کلام اور سلام کا جواب اور ہر کام موقوف کر دے۔ یہاں تک کہ قرآن شریف کی تلاوت میں اذان کی آواز آئے تو تلاوت روک دے اور اذان کو غور سے سنے اور جواب دے اور یہی اقامت میں بھی کرے۔
(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلاۃ ، الباب الثانی ، الفصل الثانی،ومما یتصل بذالک اجابۃ المؤذن ،ج۱،ص۵۷)
مسئلہ:۔جو شخص اذان کے وقت باتوں میں مشغول رہے۔ اس پر معاذاﷲ خاتمہ برا ہونے کا خوف ہے۔
مسئلہ:۔فرض نمازوں اور جمعہ کی جماعتوں کے علاوہ دوسرے موقعوں پر بھی اذان کہی جاسکتی ہے۔ جیسے پیدا ہونے والے بچے کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت۔ اسی طرح مغموم کے کان میں' مرگی والے اور غضبناک اور بد مزاج آدمی اور جانور کے کان میں' جنگ اور آگ لگنے کے وقت' جنوں اور شیطانوں کی سرکشی کے وقت' جنگل میں راستہ نہ ملنے کے وقت' میت کے دفن کرنے کے بعد ان صورتوں میں اذان پڑھنا مستحب ہے۔
(الردالمحتارمع الدرالمختار،کتاب الصلوٰۃ ، مطلب: فی مواضع الشئی یندب لھا الاذان، ص۶۲۔۶۳)