Brailvi Books

جنتی زیور
232 - 676
مسئلہ:۔مسجد میں سویا تھا اور نہانے کی حاجت ہو گئی تو فوراً  ہی تیمم کرکے جلد مسجد سے نکل جائے۔
         (ردالمحتار،کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱،ص۴۵۸)
مسئلہ:۔کسی وجہ سے نماز کا وقت اتنا تنگ ہو گیا کہ اگر وضو کرے تو نماز قضا ہو جائے گی تو چاہے کہ تیمم کر کے نماز پڑھ لے۔ پھر لازم ہے کہ وضو کر کے اس نماز کو دہرائے۔
  (ردالمحتار،کتاب الطہارۃ، باب التیمم، ج۱،ص۴۶۱۔۴۶۲)
مسئلہ:۔اگر پانی موجود ہو تو قرآن مجید کو چھونے یا سجدہ تلاوت کے لئے تیمم کرنا جائز نہیں بلکہ وضو کرنا ضروری ہے۔
      (درمختاروردالمحتار،کتاب الطہارۃ،باب التیمم، ج۱،ص۴۵۸)
مسئلہ:۔جس جگہ سے ایک شخص نے تیمم کیا اسی جگہ سے دوسرا بھی تیمم کر سکتا ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ ، الباب الرابع فی التیمم، الفصل الثالث فی المتفرقات، ج۱،ص۳۱)
مسئلہ:۔عوام میں جویہ مشہور ہے کہ مسجد کی دیوار یا زمین سے تیمم ناجائز یا مکروہ ہے یہ غلط ہے مسجد کی دیوار اور زمین پر بھی تیمم بلا کراہت جائز ہے۔
         (بہار شریعت،ج۱،ح ۲،بیان التیمم،ص۷۰)
مسئلہ:۔تیمم کے لئے ہاتھ زمین پر مارا اور چہرہ اور ہاتھوں پر ہاتھ پھرا نے سے پہلے ہی تیمم ٹوٹنے کا کوئی سبب پایا گیا تو اس سے تیمم نہیں کر سکتا بلکہ اس کو لازم ہے کہ دوبارہ ہاتھ زمین پر مارے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الرابع فی التیمم، الفصل الاول،ج۱،ص۲۶)
مسئلہ:۔جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے یا غسل واجب ہوتا ہے ان سے تیمم بھی جاتا رہے گا۔ اور ان کے علاوہ پانی کے استعمال پر قادر ہو جانے سے بھی تیمم ٹوٹ جائے گا۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الرابع فی التیمم، الفصل الثانی،ج۱،ص۲۹)
Flag Counter