Brailvi Books

جنتی زیور
225 - 676
کر لینے سے غسل نہیں ہوگا بلکہ غسل میں فرض ہے۔ بھر بھر منہ میں پانی لے کر خوب زیادہ منہ کو حرکت دے تاکہ منہ کے اندر ہر ہر حصہ میں پانی پہنچ جائے۔ اگر روزہ دار نہ ہو تو غسل کی کلی میں غرغرہ بھی کرے ہاں روزہ کی حالت میں غرغرہ نہ کرے کہ حلق کے اندر پانی چلے جانے کا خطرہ ہے۔
(درمختاروردالمحتار،کتاب الطہارۃ،مطلب فی ابحاث الغسل ،ج۱،ص۳۱۲)
(۲)ناک میں پانی چڑھانا:۔غسل میں اس طرح ناک میں پانی چڑھانا فرض ہے کہ سانس اوپر کو کھینچ کر ناک کے نتھنوں میں جہاں تک نرم حصہ ہے اس کے اندر پانی چڑھائے کہ نتھنوں کے اندر ہر جگہ اور ہر طرف پانی پہنچ کر بہہ جائے اور ناک کے اندر کی کھال یا ایک بال بھی سوکھا نہ رہ جائے ورنہ غسل نہیں ہوگا۔
(درمختاروردالمحتار،کتاب الطہارۃ،مطلب فی ابحاث الغسل ،ج۱،ص۳۱۲)
(۳)تمام بدن پر پانی بہانا:۔یعنی سر کے بالوں سے پاؤں کے تلوؤں تک بدن کے آگے پیچھے دائیں بائیں' اوپر نیچے' ہر ہر ذرے 'ہر ہر رونگٹے اور ہر ایک بال کے پورے پورے حصہ پر پانی بہانا غسل میں فرض ہے بعض لوگ سر پر پانی ڈال کر بدن پرادھر ادھر ہاتھ پھرا لیتے ہیں۔ اور پانی بدن پر پوت لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ غسل ہو گیا۔ حالانکہ بدن کے بہت سے ایسے حصے ہیں کہ اگر احتیاط کے ساتھ غسل میں ان کا دھیان نہ رکھا جائے تو وہاں پانی نہیں پہنچتا۔ اور وہ سوکھا ہی رہ جاتا ہے۔ یاد رکھو کہ اس طرح نہانے سے غسل نہیں ہوگا اور آدمی نماز پڑھنے کے قابل نہیں ہوگا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ غسل کرتے وقت خاص طور پر ان چند جگہوں پر پانی پہنچانے کا دھیان رکھیں۔ سر اور داڑھی مونچھ بھوؤں کے ایک ایک بال اور بدن کے ہر ہر رونگٹے کی جڑ سے نوک تک دھل جانے کا خیال رکھیں۔ اسی طرح
Flag Counter