Brailvi Books

جنتی زیور
223 - 676
مسئلہ:۔وضو کے بعد ناخن یا بال کٹایا تو وضو نہیں ٹوٹا نہ وضو کو دُہرانے کی ضرورت ہے۔ نہ ناخن کو دھونے اور نہ سر کو مسح کرنے کی ضرورت ہے۔
    (الفتاوٰی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ،الباب الاول،الفصل الاول،ج۱،ص۴)
مسئلہ:۔اگر وضو کرنے کی حالت میں کسی عضو کے دھونے میں شک ہوا اور یہ زندگی کا پہلا واقعہ ہے تو اس عضو کو دھو لے اور اگر اس قسم کا شک پڑا کرتا ہے تو اس کی طرف کوئی توجہ نہ کرے۔ یوں ہی اگر وضو پورا ہو جانے کے بعد شک پڑ جائے تو اس کا کچھ خیال نہ کرے۔
(الدرالمختار،کتاب الطہارۃ،مطلب فی ندب مراعاۃ الخلاف...الخ،ج۱،ص۳۰۹۔۳۱۰)
مسئلہ:۔جو باوضو تھا اب اسے شک ہے کہ وضو ہے یا ٹوٹ گیا تو اس کو وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں وضو کرلینا بہتر ہے جبکہ یہ شبہ بطور وسوسہ نہ ہوا کرتا ہو اور اگر وسوسہ سے ایسا شبہ ہو جایا کرتا ہو تو اس شبہ کو ہر گز نہ مانے۔ اس صورت میں احتیاط سمجھ کر وضو کرنا احتیاط نہیں بلکہ وسوسہ کی اطاعت ہے۔
(الدرالمختار،کتاب الطہارۃ،مطلب فی ندب مراعاۃ الخلاف...الخ، ج۱، ص۳۰۹۔۳۱۰)
مسئلہ:۔اگر بے وضو تھا۔ اب اسے شک ہے کہ میں نے وضو کیا یا نہیں تو وہ یقیناً بلا وضو ہے۔اس کو وضو کرنا ضروری ہے۔
     ( الدرالمختار،کتاب الطہارۃ،مطلب فی ندب مراعاۃ الخلاف...الخ،،ج۱،ص۳۱۰)
مسئلہ:۔یہ یاد ہے کہ وضو میں کوئی عضو دھونے سے رہ گیا مگر معلوم نہیں کہ وہ کونسا عضو تھا تو بایاں پاؤں دھولے۔
    (ردالمحتار،کتاب الطہارۃ،باب ارکان الوضوء اربعۃ،ج۱،ص۳۱۰)
Flag Counter