| جنتی زیور |
حصہ یا کسی مقام سے خون یا پیپ نکل کر ایسی جگہ بہنا کہ جس کا وضو یا غسل میں دھونا فرض ہے(۴)کھانا پانی یا خون یا پت کی منہ بھر کر قے ہو جانا(۵)اسطرح سو جانا کہ بدن کے جوڑ ڈھیلے پڑ جائیں (۶)بے ہوش ہوجانا(۷)غشی طاری ہو جانا (۸)کسی چیز کا اس حد تک نشہ چڑھ جانا کہ چلنے میں قدم لڑ کھڑائیں (۹)دکھتی ہوئی آنکھ سے پانی کا کیچڑ نکلنا (۱۰)رکوع وسجدہ والی نمار میں قہقہہ لگا کر ہنسنا۔
(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطہارۃ،الفصل الخامس فی نواقض الوضوء، ج۱، ص۹۔۱۳/ بہارشریعت،ج۱،ح ۲،ص۲۴)
مسئلہ:۔وضو کے بعد کسی کا ستر دیکھ لیا یا اپنا ستر کھل گیا یا خود بالکل ننگے ہو کر وضو کیا یا نہانے کے وقت ننگے ہی ننگے وضو کیا تو وضو نہیں ٹوٹا۔ یہ جو جاہلوں میں مشہور ہے کہ اپنا ستر کھل جانے یا دوسرے کا ستر دیکھ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ بالکل غلط ہے ہاں البتہ یہ وضو کے آداب میں سے ہے کہ ناف سے زانو کے نیچے تک سب ستر چھپا ہوا ہو بلکہ استنجا کے بعد فوراً ہی چھپا لینا چاہے کیونکہ بغیر ضرورت ستر کھلا رہنا منع ہے اور دوسرے کے سامنے ستر کھولنا حرام ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطہارۃ،الباب الاول،الفصل الخامس فی نواقض الوضوء، ج۱، ص۱۳)
مسئلہ:۔اگر ناک صاف کی اس میں سے جما ہوا خون نکلا تو وضو نہیں ٹوٹا اور اگر بہتا ہوا خون نکلا تو وضو ٹوٹ گیا۔
(ردالمحتار،کتاب الطہارۃ،مطلب نواقض الوضوء،ج۱،ص۲۹۲)
مسئلہ:۔چھالا نوچ ڈالا اگر اس میں کا پانی بہہ گیا تو وضو ٹوٹ گیا اور اگر پانی نہیں بہا تو وضو نہیں ٹوٹتا۔
(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطہارۃ،الفصل الخامس فی نواقض الوضوء، ج۱، ص۱۱)