Brailvi Books

جنتی زیور
217 - 676
چوتھائی سرکا مسح کرنا یعنی گیلا ہاتھ سر پر پھیر لینا۔(۴)ایک بار ٹخنوں سمیت دونوں پیروں کو دھونا۔
(پ۶،المائدۃ:۶،الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الباب الاول فی الوضوء،الفصل الاول فی فرائض الوضوء ،ج۱،ص۵۳)
مسئلہ:۔وضو یا غسل میں کسی عضو کو دھونے کا مطلب یہ ہے کہ جس عضو کو دھوؤ اس کے ہر حصہ پر کم سے کم دو بوند پانی بہہ جائے اگر کوئی حصہ بھیگ تو گیا مگر اس پر پانی نہیں بہا تووضو یا غسل نہیں ہو گا۔ بہت سے لوگ بدن پر پانی ڈال کر ہاتھ پھرا کر بدن پر پانی چپڑ لیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ بدن دھل گیا۔ یہ غلط طریقہ ہے۔ بدن پر ہر جگہ پانی کا کم سے کم دو بوند بہہ جانا ضروری ہے۔
(درمختار،مع ردالمحتار،کتاب الطہارۃ، باب ارکان الوضوء الاربعۃ،مطلب فی الفرض القطعی والظنی، ج۱،ص۲۱۷۔۲۱۸)
    اور مسح کرنے کا یہ مطلب ہے کہ گیلا ہاتھ پھیر لیا جائے۔ سر کے مسح میں بعض جاہلوں کا یہ طریقہ ہے کہ مسح کیلئے ہاتھوں میں پانی لے کر اس کو چومتے ہیں۔ پھر مسح کرتے ہیں۔ یہ ایک لغو کام ہے۔ مسح میں گیلا ہاتھ سر پر پھرا لینا چاہیے۔
(ردالمحتار،کتاب الطہارۃ،مطلب فی معنی الاشتقاق وتقسیمہ الی ثلثۃ اقسام...الخ، ج۱،ص۲۲۲)
وضو کی سنتیں:۔وضو میں سولہ چیزیں سنت ہیں۔(۱)وضو کی نیت کرنا (۲)بسم اﷲ پڑھنا (۳)پہلے دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھونا (۴)مسواک کرنا (۵)داہنے ہاتھ سے تین مرتبہ کلی کرنا (۶)داہنے ہاتھ سے تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھانا (۷)بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا (۸)داڑھی کا انگلیوں سے خلال کرنا (۹)ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا(۱۰)ہر عضو کو تین تین بار دھونا
Flag Counter