Brailvi Books

جنتی زیور
207 - 676
و فاتحہ خوانی و نعت خوانی و وعظ و ایصال ثواب یہ سب اچھے اور ثواب کے کام ہیں۔ ہاں البتہ عرسوں میں جو خلاف شریعت کام ہونے لگے ہیں۔ مثلاً قبروں کو سجدہ کرنا' عورتوں کا بے پردہ ہو کر مردوں کے مجمع میں گھومتے پھرنا' عورتوں کاننگے سر مزاروں کے پاس جھومنا' چلانا اور سر پٹک پٹک کر کھیلنا کودنا۔ اور مردوں کا تماشا دیکھنا' باجا بجانا' ناچ کرانا یہ سب خرافات ہر حالت میں مذموم و ممنوع ہیں۔ اور ہر جگہ ممنوع ہیں اور بزرگوں کے مزاروں کے پاس اور زیادہ مذموم ہیں لیکن ان خرافات و ممنوعات کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بزرگوں کا عرس حرام ہے جو حرام اور ممنوع کام ہیں ان کو روکنا لازم ہے۔ ناک پر اگر مکھی بیٹھ گئی ہے تو مکھی کو اڑا دینا چاہیے ناک کاٹ کر نہیں پھینک دینا چاہیے۔ اسی طرح اگر جاہلوں اور فاسقوں نے عرس میں کچھ حرام کام اور ممنوع کاموں کو شامل کردیا ہے تو ان حرام و ممنوع کاموں کو روکا جائے عرس ہی کو حرام نہیں کہہ دیا جائے گا۔

پیری مریدی:۔علماء اور مشائخ سے مرید ہونااور ان کے ہاتھوں پر توبہ کر کے نیک اعمال کرنے کا عہد کرنا جائز اور ثواب کا کام ہے مگر مرید ہونے سے پہلے پیر کے بارے میں خوب اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیں ورنہ اگر پیر بدعقیدہ اور بد مذہب ہو ا تو ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ آج کل بہت سے ایمان کے ڈاکو پیروں کے لباس میں پھرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا مرید بننے میں بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ یوں تو پیر بننے کے لئے بہت سی شرطوں کی ضرورت ہے مگر کم سے کم چار شرطوں کا پیر میں ہونا تو بے حد ضروری ہے۔ اول سنی صحیح العقیدہ ہو' دوم اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضرورت کے مسائل کتابوں سے نکال سکے۔ سوم فاسق معلن نہ ہو۔ چہارم اس کا سلسلہ اور شجرہ طریقت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم تک متصل ہو ورنہ اوپر سے فیض نہ ہوگا۔