| جنتی زیور |
مرتضیٰ رضی اﷲتعالی عنہم ہیں اور ان میں جو خلافت کی ترتیب ہے وہی افضلیت کی بھی ترتیب ہے۔ یعنی سب سے افضل حضرت صدیق اکبر ہیں۔ پھر فاروق اعظم۔ پھر عثمان غنی۔ پھر علی مرتضی!(رضی اﷲتعالیٰ عنہم)
(شرح العقائد النسفی، مبحث افضل البشر بعد نبیناصلی اللہ علیہ وسلم،ص۱۴۹۔۱۵۰)
عقیدہ :۲اولیائے کرام حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے سچے نائب ہیں۔ اﷲتعالیٰ نے اولیائے کرام کو بہت بڑی طاقت اور عالم میں ان کو تصرفات کے اختیارات عطافرمائے ہیں۔ اور بہت سے غیب کے علوم ان پر منکشف ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اولیاء کو اﷲتعالیٰ لوح محفوظ کے علوم پر بھی مطلع فرما دیتا ہے۔ لیکن اولیاء کو یہ سارے کمالات حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے واسطہ سے حاصل ہوتے ہیں۔ عقیدہ :۳اولیاء کی کرامت حق ہے۔ اس کا منکر گمراہ ہے۔ کرامت کی بہت سی قسمیں ہیں۔ مثلاً مُردوں کو زندہ کرنا۔ اندھوں اور کوڑھیوں کو شفاء دینا' لمبی مسافتوں کو منٹ دو منٹ میں طے کرلینا۔ پانی پر چلنا۔ ہواؤں میں اڑنا۔ دور دور کی چیزوں کو دیکھ لینا۔ مفصل بیان کے لئے پڑھو ہماری کتاب ''کرامات صحابہ'' علیھم الرضوان
(شرح العقائدالنسفی، مبحث کرامات الاولیاء حق ،ص۱۴۵۔۱۴۷)
عقیدہ :۴اولیائے کرام کو دورو نزدیک سے پکارنا جائز اور سلف صالحین کا طریقہ ہے۔ عقیدہ :۵اولیائے کرام اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور ان کا علم اور ان کا دیکھنا ان کا سننا دنیاوی زندگی سے زیادہ قوی ہوتا ہے۔ عقیدہ :۶اولیائے کرام کے مزارات پر حاضری مسلمانوں کے لئے باعث سعادت و برکت ہے اور ان کی نیاز وفاتحہ اور ایصال ثواب مستحب اور خیر و برکت کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اولیائے کرام کا عرس کرنا یعنی لوگوں کا ان کے مزاروں پر جمع ہو کر قرآن خوانی