کچھ بھی نہ کر سکو گے سوچو کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا؟ اور تم اس وقت کس قدر افسوس کرو گے اور پچھتاؤ گے کہ ہائے یہ کیا ہوا؟کاش میں تندرستی اور سلامتی کی حالت میں کچھ عبادتیں اور خیر خیرات کرلیتا۔ مگر اب اس پچھتانے اور افسوس کرنے سے کیا فائدہ؟ اس لئے میری بہنو! اور میرے بھائیو! ملک الموت کے آنے سے پہلے جو کچھ اعمال صالحہ اور صدقہ و خیرات کرسکتے ہو وہ کرکے قبر اور دوزخ کے عذابوں سے بچنے کا سامان کرلو۔ اور جنت میں جانے' اور بہشت کی نعمتوں کے پانے کے ذریعے بنا لو ورنہ بہت افسوس کرو گے اور اس وقت مجھے یاد کرو گے کہ ہمارا عالم دین بالکل سچ کہتا تھا۔ کاش ہم اس کی نصیحتوں کو مان لیتے تو ہمارا بھلا ہو جاتا۔ اس لئے پھر کہتا ہوں اور باربار کہتا ہوں کہ؎