Brailvi Books

جنتی زیور
198 - 676
کچھ بھی نہ کر سکو گے سوچو کہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا؟ اور تم اس وقت کس قدر افسوس کرو گے اور پچھتاؤ گے کہ ہائے یہ کیا ہوا؟کاش میں تندرستی اور سلامتی کی حالت میں کچھ عبادتیں اور خیر خیرات کرلیتا۔ مگر اب اس پچھتانے اور افسوس کرنے سے کیا فائدہ؟ اس لئے میری بہنو! اور میرے بھائیو! ملک الموت کے آنے سے پہلے جو کچھ اعمال صالحہ اور صدقہ و خیرات کرسکتے ہو وہ کرکے قبر اور دوزخ کے عذابوں سے بچنے کا سامان کرلو۔ اور جنت میں جانے' اور بہشت کی نعمتوں کے پانے کے ذریعے بنا لو ورنہ بہت افسوس کرو گے اور اس وقت مجھے یاد کرو گے کہ ہمارا عالم دین بالکل سچ کہتا تھا۔ کاش ہم اس کی نصیحتوں کو مان لیتے تو ہمارا بھلا ہو جاتا۔ اس لئے پھر کہتا ہوں اور باربار کہتا ہوں کہ؎
واسطے حق کے نہ ایسی راہ چل

حشر کے دن جس سے ہو تجھ کو خلل

نیکیوں میں سست ہے بدیوں میں چست

چھوڑ ان باتوں کو طور اپنے بدل

قبر میں رہنے کی بھی کچھ فکر کر

اونچے اونچے یاں تو بنوائے محل

روشنی کا قبر میں سامان کر

ہیں محض بیکار یہ شمع و کنول

عاقبت بن جائے ایسے کام کر

جلدان دنیاکے پھندوں سے نکل

مال و دولت سب دھرے رہ جائیں گے
Flag Counter