Brailvi Books

جنتی زیور
136 - 676
    یعنی اے محبوب! آپ اسی طرح صبر کریں جس طرح تمام ہمت والے رسولوں نے صبر کیا ہے۔(پ26،الاحقاف:35)

    اس دنیا میں رنج و راحت اور غم و خوشی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ہر شخص کو اس دنیاوی زندگی میں تکلیف اور آرام دونوں سے پالا پڑنا ضروری ہے اس لیے ہر انسان پر لازم ہے کہ کوئی نعمت و راحت ملے تو اس پر خدا کا شکر ادا کرے اور کوئی تکلیف و رنج پہنچے تو اس پر صبر کرے۔ غرض صبر کی عادت ایک نہایت ہی بہترین عادت ہے اور مثل مشہور ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوا کرتا ہے۔ اس لیے ہر مرد وعورت کو چاہیے کہ صبر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑے۔

(۵)قناعت:۔انسان کو جو کچھ خدا کی طرف سے مل جائے اس پر راضی ہو کر زندگی بسر کرتے ہوئے حرص اور لالچ کو چھوڑ دینا۔اس کو ''قناعت'' کہتے ہیں قناعت کی عادت انسان کے لیے خدا کی بہت بڑی نعمت ہے۔ قناعت پسند انسان سکون و اطمینان کی دولت سے مالا مال رہتا ہے اور حریص اور لالچی انسان ہمیشہ پریشان رہتا ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے
اے قناعت تونگرم گردان 

کہ ورائی تو ہیچ نعمت نیست
  یعنی اے قناعت کی عادت تو مجھ کو تو نگر اور مالدار بنادے۔ کیونکہ تجھ سے بڑھ کر دنیا میں کوئی نعمت نہیں ہے۔ ہر انسان خصوصاً عورتوں کو چاہے کہ ان کو بیٹے شوہروں کی طرف سے جو کچھ مل جائے اس پر راضی رہ کر قناعت کریں۔ اور دوسری عورتوں کی دیکھا دیکھی حرص اور لالچ کی عادت سے ہمیشہ دور رہیں تو ان شاء اﷲتعالیٰ ان کی زندگی نہایت
Flag Counter