Brailvi Books

جنتی زیور
135 - 676
فَاعْفُوۡا وَاصْفَحُوۡا
    ''یعنی لوگوں کی خطاؤں کو معاف کر دو اور درگزر کی خصلت اختیار کرو۔'' (پ1،البقرۃ:1۰9)ہمارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مکہ کے ان مجرموں اور خطاکاروں کو جنہوں نے برسوں تک آپ پر طرح طرح کے ظلم کئے تھے۔ فتح مکہ کے دن جب یہ سب مجرمین آپ کے سامنے لرزتے اور کانپتے ہوئے آئے تو آپ نے ان سب مجرموں کی خطاؤں کو معاف فرما دیا اور کسی سے بھی کوئی انتقام اور بدلہ نہیں لیا۔ جس کا یہ اثر ہوا کہ تمام کفار مکہ نے اس اخلاق محمدی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے متاثر ہو کر کلمہ پڑھ لیا۔

    عزیز بھائیو اور پیاری بہنو! تم بھی اپنی یہی عادت بنا لو کہ گھر میں یا گھر کے باہر ہر جگہ لوگوں کے قصور معاف کر دیا کرو۔ اس سے لوگوں کی نظروں میں تمھارا و قار بڑھ جائیگا اور خداوند کریم بھی تم پر مہربان ہو کر تمھاری خطاؤں کو بخش دے گا۔

(۴)صبروشکر:۔مصیبتوں اور جسمانی و روحانی تکلیفوں پر اپنے نفس کو اسطرح قابو میں رکھنا کہ نہ زبان سے کوئی برالفظ نکلے نہ گھبرا گھبرا کر اور پریشان حال ہو کر ادھر ادھر بھٹکتاا ور بھاگتا پھرے بلکہ بڑی سے بڑی آفتوں اور مصیبتوں کے سامنے عزم و استقلال کے ساتھ جم کر ڈٹے رہنا۔ اس کا نام صبر ہے صبر کا کتنا بڑا ثواب اور اجر ہے۔ اس کو بچہ بچہ جانتا ہے۔ قرآن مجید میں اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے کہ۔
اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ﴿۱۵۳﴾
    ''یعنی صبر کرنے والے کے ساتھ اﷲتعالیٰ کی مدد ہوا کرتی ہے۔'' (پ1،البقرۃ:153)

اور خداوند کریم نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے یہ ارشاد فرمایا کہ۔
فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ
Flag Counter