Brailvi Books

جنتی زیور
131 - 676
(۱۹)ریا کاری:۔کچھ مردوں اور عورتوں کی یہ خراب عادت ہوتی ہے کہ وہ دین یا دنیا کا جو کام بھی کرتے ہیں وہ شہرت و ناموری اور دکھاوے کے لئے کرتے ہیں۔ اس خراب عادت کا نام ''ریاکاری'' ہے اور یہ سخت گناہ ہے حدیث شریف میں ہے کہ ریا کاری کرنے والوں کو قیامت کے دن خدا کا منادی اس طرح میدان محشر میں پکارے گا کہ اے بدکار۔ اے بد عہد۔ اے ریاکار! تیرا عمل غارت ہوگیا اور تیرا ثواب برباد ہو گیا۔ تو خدا کے دربار سے نکل جا اور اس شخص سے اپنا ثواب طلب کر جس کے لئے تو نے عمل کیا تھا۔
(سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد ، باب الریاء والسمعۃ، رقم ۴۲۰۳،ج۴،ص۴۷۰)
    اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جس عمل میں ذرہ بھر بھی ریا کاری کا شائبہ ہو اس عمل کو اﷲتعالیٰ قبول نہیں فرماتا ہے۔
    (الترغیب والترہیب ، الترہیب من الریائ...الخ ، رقم ۲۷،ج۱،ص۳۶)
اور یہ بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشار فرمایا کہ جہنم میں ایک ایسی وادی ہے جس کو اﷲتعالیٰ نے ریا کاری کرنے والے قاریوں کے لئے تیار فرمایا ہے۔
(جامع الترمذی ، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی الریاء ، رقم ۲۳۹۰،ج۴،ص۱۷۰)
(۲۰)تعریف پسندی:۔کچھ مرد اور عورتیں اس خراب عادت میں مبتلا ہیں کہ جو شخص ان کے منہ پر ان کی تعریف کردے وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور جو شخص ان کے عیبوں کی نشاندہی کردے اس پر مارے غصہ کے آگ بگولا ہو جاتے ہیں۔ آدمی کی یہ خصلت بھی نہایت ناقص اور بہت بری عادت ہے۔ اپنی تعریف کو پسند کرنا اور اپنی تنقید پر ناراض ہو جانا یہ بڑی بڑی گمراہیوں اور گناہوں کا سر چشمہ ہے اس لئے اگر کوئی شخص تمہاری تعریف کرے تو تم اپنے دل میں سوچو اگر واقعی وہ خوبی تمہارے اندر موجود ہو تو تم اس پر خدا کا شکر ادا کرو کہ اس نے تم کو اس کی توفیق عطا فرمائی اور ہرگز اپنی اس خوبی پر اکڑ کر اترا کر
Flag Counter