یعنی بعض گمان گناہ ہیں۔(پ26،الحجرات:12)
لہٰذا جب تک کھلی ہوئی دلیل سے تم کو کسی بات کا یقین نہ ہو جائے ہر گز ہر گز محض بے بنیاد گمانوں سے کوئی رائے قائم نہ کر لیا کرو۔
(۱۸)کان کا کچا:بہت سے مردوں اور عورتوں میں یہ خراب عادت ہوا کرتی ہے کہ اچھا برا یا سچا جھوٹا جو آدمی بھی کوئی بات کہہ دے اس پر یقین کرلیتے ہیں اور بلا چھان بین اور تحقیقات کے اس بات کو مان کر اس پر طرح طرح کے خیالات و نظریات کا محل تعمیر کرنے لگتے ہیں یہ وہ عادت بد ہے جو آدمی کو شکوک و شبہات کے دلدل میں پھنسا دیتی ہے اور خواہ مخواہ آدمی اپنے مخلص دوستوں کو دشمن بنا لیتا ہے اور خود غرض و فتنہ پرور لوگ اپنی چالوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس لئے خداوند قدوس نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ