| جنّت کی دوچابیاں |
٭حضرت سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ شرم و حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان والا جنت میں جائے گا اور بے حیائی ،فحش گوئی برائی کا حصہ ہے اور برائی والا دوزخ میں جائے گا۔ ''(ترمذی، کتاب البر والصلۃ ،رقم ۲۰۱۶، ج۳،ص۴۰۶)
٭حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ عالم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ''فحش گو پر جنت میں داخل ہونا حرام ہے۔''(اتحاف السادۃ للمتقین ،کتاب آفات اللسان ،ج۹،ص۱۸۷)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلمبارہویں قسم طعنہ زنی کرنا
طعنہ زنی کرکے دوسروں کا جگر چھلنی کرنا بھی بعض لوگوں کا وطیرہ ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
وَلَا تَلْمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ
ترجمۂ کنزالایمان : اورآپس میں طعنہ نہ کرو۔''(پ ۲۶،الحجرات:۱۱ )
جبکہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکی مدنی سلطان صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے اپنے بھائی کو کسی گناہ پر عار دلائی مرے گا نہیں جب تک اس گناہ میں مبتلا نہ ہو۔''ایک روایت میں ہے کہ '' اس گناہ پر عار دلائی جس سے توبہ کرچکا ۔''(سنن الترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ ، رقم الحدیث ۲۵۱۳،ج۴،ص۲۲۷)
اورحضرت واثِلۃ بن اَسقع سے مروی ہے کہ حضورپرنورا نے فرمایا: ''اپنے بھائی کو عار نہ دلاؤ کہ اسے چھٹکارا دیکر تمہیں مبتلا کردیا جائے ۔''
(سنن الترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ ، رقم الحدیث ۲۵۱۴،ج۴،ص۲۲۷)