Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
54 - 152
    اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ  عليہ وسلم
گیارہویں قسم          فحش کلامی کرنا
    فحش کلامی سے مراد یہ ہے کہ ان باتوں کو واضح الفاظ میں ذکر کردیا جائے جن کا صراحۃً اظہار برا سمجھا جاتا ہو مثلاً جماع کی کیفیات یا پوشیدہ امراض کو(بلاحاجتِ شرعی ) بیان کرنا۔
 (احیاء العلوم ،کتاب آفات اللسان ،ص۱۵۱)
     مکی مدنی سلطان رحمتِ عالمیان صلي اللہ  عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا :''بے شک اللہ تعالیٰ فحش گوئی اور بدزبانی کو پسند نہیں فرماتا۔'' (مسلم،رقم۲۱۶۵،ص۱۱۹۳ )

    بدقسمتی سے فحش کلامی کے شوقین بھی ہمارے معاشرے میں کثرت سے پائے جاتے ہیں جو حصولِ لذت اور دوستوں کی محفلیں گرمانے کے لئے شہوت بھری گفتگو کرنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ فحش گوئی کا سہارا لے کر دادوتحسین سمیٹنے والے یاد رکھیں کہ اس کا انجام بہت بُرا ہے ،چنانچہ

    ٭ شہنشاہ ابرار،جناب احمد ِ مختار صلي اللہ  عليہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ''چار طرح کے جہنمی کھولتے پانی اور آگ کے درمیان بھاگتے پھرتے اور ویل وثبور(یعنی ہلاکت)مانگتے ہوں گے ، ان میں سے ایک ایسا شخص بھی ہوگا جس کے منہ سے خون اور پیپ بہتے ہوں گے ۔ جہنمی کہیں گے :''اس بدبخت کو کیا ہوا کہ ہماری تکلیف میں اضافہ کئے دیتا ہے ؟''جواب ملے گا :''یہ بدنصیب ،خبیث اور بری بات کی طرف متوجہ ہوکر لذت اٹھاتا تھا مثلاً جماع کی باتوں سے ۔''
 (اتحاف السادۃالمتقین ،کتاب آفات اللسان ، ج۹،ص۱۸۷)
Flag Counter