کسی کو اللہ کی رحمت سے دور کہنا اورکرنا ''لعنت ''کہلاتی ہے ۔ یقین کے ساتھ کسی پر بھی لعنت کرنا جائز نہیں چاہے وہ کافر ہویامومن ، گنہگار ہویا فرمانبردار کیونکہ کسی کے خاتمہ کا حال کوئی نہیں جانتا۔ (حدیقہ ندیہ ،ج۲،ص۲۳۰)
فتاویٰ رضویہ میں ہے کہ ''لعنت بہت سخت چیز ہے ،ہر مسلمان کو اس سے بچایا جائے بلکہ کافر پر بھی لعنت جائز نہیں جب تک اس کا کفر پر مرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہ ہو۔''(جلد ۱۰،نصف ثانی ، ص ۲۵۵بتغیرمّا)
ہمارے معاشرے میں بات بات پرلعنت ملامت کرنے کا مرض بھی عام ہے اور علم دین سے محرومی کے باعث اس میں کوئی حرج بھی نہیں سمجھاجاتا حالانکہ کسی مؤمن کو لعنت کرنااسے قتل کرنے کے مترادف ہے جیسا کہ حضرتِ سیدناضحاک سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ''کسی مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے۔''