(۱۰) حضرت سیدناقس بن ساعدہ رضی اللہ تعالی عنہاور حضرت سیدنا اکثم بن صیفی رضی اللہ تعالی عنہکی آپس میں ملاقات ہوئی تو ایک نے دوسرے سے پوچھا :''آپ کا کیا خیال ہے کہ کسی آدمی میں کتنے عیوب ہوسکتے ہیں ؟'' دوسرے نے جواب دیا :''یہ عیوب توبے شمار ہیں لیکن ایک خوبی ایسی ہے کہ انسان اس کی بناء پر اپنے تمام عیوب کو چھپا سکتا ہے ۔'' انہوں نے پوچھا :''وہ کونسی؟''جواب دیا :''زبان کی حفاظت کرنا۔''
(المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر ،ج۱، ص ۱۴۶)
(۱۱) حضرت سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہنے اپنے رفیق حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: ''اے ربیع!(کبھی) فضول کلام مت کرناکیونکہ جب تم بات کہہ چکو گے تو وہ تم پر حاکم بن بیٹھے گی اور تم اس کے غلام ہوجاؤگے ۔''
(المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر،ج۱ ، ص ۱۴۶)
(۱۲) ایک حکیم کا قول ہے : ''جب تجھے اپنا بولنا عُجب میں مبتلاء کردے تو خاموش ہوجا، اور جب خاموشی باعث ِ عُجب بنے تو بولنا شروع کردے۔''
(المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر،ج۱ ، ص ۱۴۷)