Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
35 - 152
    (۸) حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رحمتِ عالم انے ارشاد فرمایا: ''جو اپنا غصہ پی لے گا اللہ عز وجل اس سے اپنا عذاب دور کریگا اور جو اپنی زبان کی حفاظت کریگا اللہ عز وجل اسکے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ ''
 (مجمع الزوائد کتاب الادب رقم ۱۲۹۸۳ ج۸ ص ۱۳۲)
    (۹) حضرت سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہنے ارشاد فرمایا: ''کلام کرنا دوا کی مثل ہے ، اگر تم اس کا قلیل استعمال کرو گے تو یہ تمہیں فائدہ دے گا اور اگر اس کے استعمال میں زیادتی کرو گے تو تمہیں نقصان پہنچائے گا۔''
 (المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر،ج۱ ، ص ۱۴۷)
    (۱۰) حضرت سیدناقس بن ساعدہ رضی اللہ تعالی عنہاور حضرت سیدنا اکثم بن صیفی رضی اللہ تعالی عنہکی آپس میں ملاقات ہوئی تو ایک نے دوسرے سے پوچھا :''آپ کا کیا خیال ہے کہ کسی آدمی میں کتنے عیوب ہوسکتے ہیں ؟'' دوسرے نے جواب دیا :''یہ عیوب توبے شمار ہیں لیکن ایک خوبی ایسی ہے کہ انسان اس کی بناء پر اپنے تمام عیوب کو چھپا سکتا ہے ۔'' انہوں نے پوچھا :''وہ کونسی؟''جواب دیا :''زبان کی حفاظت کرنا۔''
 (المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر ،ج۱، ص ۱۴۶)
    (۱۱) حضرت سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہنے اپنے رفیق حضرت ربیع رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: ''اے ربیع!(کبھی) فضول کلام مت کرناکیونکہ جب تم بات کہہ چکو گے تو وہ تم پر حاکم بن بیٹھے گی اور تم اس کے غلام ہوجاؤگے ۔''
 (المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر،ج۱ ، ص ۱۴۶)
    (۱۲) ایک حکیم کا قول ہے : ''جب تجھے اپنا بولنا عُجب میں مبتلاء کردے تو خاموش ہوجا، اور جب خاموشی باعث ِ عُجب بنے تو بولنا شروع کردے۔''
 (المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر،ج۱ ، ص ۱۴۷)
Flag Counter