امام حافظ شہاب الدین علیہ الرحمۃ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :
''دوجبڑوں کے درمیان والی چیز سے مراد زبان اور ٹانگوں کے درمیان والی شے سے مراد شرم گاہ ہے ۔اور حفاظت کی ضمانت دینے کا مطلب یہ ہے کہ انسان انہیں رب تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں سے بچانے کا پختہ عہد کرے مثلاًزبان سے وہی کلام کرے جو ضروری ہو اور بے کار باتوں سے بچے، اسی طرح شرم گاہ کو حلال جگہ استعمال کرے اور اسے حرام میں مبتلاء ہونے سے بچائے ۔سیدناابن بطال علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان کے لئے دنیا کی سب سے بڑی آزمائش اس کی زبان اور شرم گاہ ہے۔لہذا! جو اِن دونوں کے شر سے بچنے میں کامیاب ہوگیا وہ بہت بڑے شر سے بچ گیا ۔'' (فتح الباری، کتاب الرقاق ، ج۱۲،ص۲۶۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کے نتیجے میں دُخول ِجنت کی بشارت دیگر احادیث میں بھی دی گئی ہے ، چنانچہ