قصاب نے موقع غنیمت جان کر اس کا پیچھاکیا اور کچھ دور جا کر اسے پکڑ لیا ۔ تب کنیز نے کہا کہ''اے نوجوان!میرا دل بھی تیری طرف مائل ہے لیکن میں اپنے رب عزوجل سے ڈرتی ہوں۔''جب اس قصاب نے یہ سنا تو بولا،''جب تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتی ہے تو کیا میں اس ذاتِ پاک سے نہ ڈروں ؟''یہ کہہ کر اس نے توبہ کر لی اور وہاں سے پلٹ پڑا۔راستے میں پیاس کے مارے دم لبوں پر آ گیا ۔اتفاقاً اس کی ملاقات ایک شخص سے ہو گئی جو کہ کسی نبی کا قاصد تھا ۔اس مردِ قاصد نے پوچھا،اے جوان کیا حال ہے؟''قصاب نے جواب دیا،''پیاس سے نڈھال ہوں ۔''قاصد نے کہا کہ'' آؤ ہم دونوں مل کر خدا سے دعا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ابر کے فرشتے کو بھیج دے اور وہ شہر پہنچنے تک ہم پر اپنا سایہ کئے رکھے ۔''نوجوان نے کہا کہ''میں نے تو خدا کی کوئی قابلِ ذکر عبادت بھی نہیں کی ہے ،میں کس طرح دعا کروں؟تم دعا کرو میں آمین کہوں گا۔''اس شخص نے دعا کی ، بادل کا ایک ٹکڑا ان کے سروں پر سایہ فگن ہو گیا ۔
جب یہ دونوں راستہ طے کرتے ہوئے ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو وہ بادل قصاب کے سر پر آ گیا اور قاصد دھوپ میں ہو گیا ۔قاصد نے کہا،''اے جوان!تو نے تو کہا تھا کہ تو نے اللہ عزوجل کی کچھ بھی عبادت نہیں کی ،پھر یہ بادل تیرے سر پر کس طرح سایہ فگن ہو گیا؟تو مجھے اپنا حال سنا۔''نوجوان نے کہا ،''اور تو مجھے کچھ معلوم نہیں لیکن ایک کنیز سے خوفِ خدا عزوجل کی بات سن کر میں نے توبہ ضرور کی تھی ۔''قاصد بولا،''تو نے سچ کہا،اللہ تعالیٰ کے حضور میں جو مرتبہ و درجہ تائب(توبہ کرنے والے) کا ہے وہ کسی دوسرے کا نہیں ہے۔'' (کتاب التوابین ، ص۷۵ )