(5) بنی اسرائیل کا ایک عابد اپنے عبادت خانے میں عبادت کیا کرتا تھا ۔ گمراہوں کا گروہ ایک طوائف کے پاس پہنچا اور اس سے کہا کہ''تم کسی نہ کسی طرح اس عابد کو بہکا دو۔''چنانچہ وہ فاحشہ ایک اندھیری رات میں جبکہ بارش برس رہی تھی ، اس عابد کے پاس آئی اور اس کو پکارا۔عابد نے جھانک کر دیکھا تو عورت نے کہا کہ ''اے اللہ کے بندے !مجھے اپنے پاس پناہ دے ۔''لیکن عابد نے اس کی پرواہ نہ کی اور نماز میں مشغول ہو گیا۔وہ طوائف اسے بارش اور اندھیری رات یاد دلا کر پناہ طلب کرتی رہی حتی کہ عابد نے رحم کھا کر اسے اندر بلا لیا ۔وہ عابد سے کچھ فاصلے پر جا کر لیٹ گئی اور اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش شروع کر دی۔یہاں تک کہ عابد کا دل بھی اس کی طرف مائل ہو گیا ۔
لیکن اسی لمحہ اللہ عزوجل کے خوف نے اس کے دل میں جوش مارا،عابدنے خود کو مخاطب کر کے کہا ،''واللہ !ایسا نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو دیکھ لے کہ آگ پر کتنا صبر کرسکتا ہے۔''پھر وہ چراغ کے پاس گیا اور اپنی ایک انگلی اس کے شعلے میں رکھ دی ،حتی کہ وہ جل کر کوئلہ ہو گئی ۔پھر اس نے نماز کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کی لیکن اس کے نفس نے دوبارہ فاحشہ کی طرف بڑھنے کا مشورہ دیا۔یہ چراغ کے پاس گیا اور اپنی دوسری انگلی بھی جلا ڈالی،پھر اس کا نفس اسی طرح خواہش کرتا رہا اور وہ اپنی انگلیاں جلاتا رہا ،حتی کہ اس نے اپنی ساری انگلیاں جلا ڈالیں،عورت یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی،چنانچہ خوف و دہشت کے باعث اس نے ایک چیخ ماری اور مر گئی۔(ذم الھوٰی،ص۱۹۹)
(6) حضرت شیخ ابو بکر بن عبد اللہ حزنی رضي الله عنه کہتے ہیں کہ ایک قصاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عاشق تھا ۔ایک دن وہ لونڈی کسی کام سے دوسرے گاؤں کو جا رہی تھی ،