کرلوں ۔ ''اجازت ملنے پر اس نے وضو کیا اور چھت پر چلاگیا۔ جہاں اس نے دو رکعت نماز ادا کی اور پھر چھت سے نیچے جھانکا تو اس کی اونچائی بیس گز تھی ۔ اس نے بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھا اور یوں عرض کی ،''اے میرے رب عزوجل میں طویل عرصہ سے تیری عبادت میں مشغول ہوں ، مجھے اس آفت سے نجات عطا فرما۔''یہ کہہ کر وہ چھت سے کود گیا ۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا جبرائیل عليه السلام کو حکم دیا ،''جاؤمیرے بندے کو زمین تک پہنچنے سے پہلے سنبھال لو، اس نے میرے عتاب کے خوف سے چھلانگ لگائی ہے۔''حضرت جبرائیل عليه السلام نے نہایت تیزی سے آکر اس شخص کو یوں تھام لیا جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو پکڑتی ہے اور زمین پر کسی پرندے کی طرح بٹھا دیا ۔
(درۃ الناصحین ، ص۳۱۳)
(2) بنی اسرا ئیل کا ایک شخص گناہ سے بچنے کی کو شش نہ کرتا تھا ایک مرتبہ ایک مجبو ر عورت اس کے پاس آئی تو اس نے اسے ساٹھ دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ اس کے ساتھ زنا کرنے پر راضی ہوجائے۔ جب وہ اس عورت پر حاوی ہونے لگا تو وہ عورت کانپنے لگی اور روپڑی۔ اس نے عورت سے پوچھا:'' کیوں رورہی ہو؟'' عورت نے جواب دیا:'' میں نے یہ کام کبھی نہیں کیا اور آج ایک ضرو رت نے مجھے یہ کام کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔''اس نے پوچھا :''کیا یہ تم اللہ عزوجل کے خو ف سے کر رہی ہو تو میں تجھ سے زیادہ ڈرنے کا حقدار ہوں ،جا میں نے جو کچھ تجھے دیا ہے وہ تیر ا ہے ،خدا کی قسم! آج کے بعد میں کبھی اللہ عزوجل کی نا فرمانی نہ کرو نگا۔'' پھر اسی رات اس کا انتقال ہوگیا۔ صبح اس کے درو ازے پر لکھا ہواتھا کہ اللہ عزوجل نے کفل کی مغفر ت فرمادی۔'' (ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ، رقم ۲۵۰۴ ،ج۴ ،ص ۲۲۳)