جَنّت کا ایک دروازہ کھول دیتاہے اورفِرشتے اُس کے لئے اپنے پربِچھادیتے ہیں اور اُس کے لیے دُعائے رحمت کرتے ہیں اور آسمانوں کے فِرِشتے اورسَمُندر کی مچھلیاں اس کے لیے اِسْتِغْفَارکرتی ہیں اور عالِم کو عابِد پر اتنی فضیلت حاصل ہے جِتنی چودھویں رات کے چاند کو آسمان کے سب سے چھوٹے ستارے پر اور علماء، انبیاءِ کرام عَلَیْھِمُ السَّلام کے وارث ہیں ۔ بیشک انبیاءِ کرام عَلَیْھِمُ السَّلام دِرھم ودِینار کا وارِث نہیں بناتے بلکہ وہ نُفُوسِ قُدْسِیہ عَلَیْھِمُ السَّلام تو عِلْم کا وارث بناتے ہیں لِہٰذا جِس نے علم حاصل کیا اُس نے اپنا حصّہ لے لیا اور عالِم کی موت ایک ایسی آفت ہے جس کا اِزالہ نہیں ہوسکتااورایک ایسا خلاء ہے جِسے پُر نہیں کیا جا سکتا (گویا کہ )وہ ایک سِتارہ تھا جو ماند پڑ گیا، ایک قبیلے کی موت ایک عالِم کی موت سے زیادہ آسان ہے ۔''
(بیہقی شعب الایمان ، با ب فی طلب العلم ، حدیث ۱۶۹۹، ج ۲ ،ص ۲۶۳ )