وَیۡلٌ لِّلْمُطَفِّفِیۡنَ ۙ﴿۱﴾الَّذِیۡنَ اِذَا اکْتَالُوۡا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوۡنَ ۫﴿ۖ۲﴾وَ اِذَا کَالُوۡہُمْ اَوۡ وَّزَنُوۡہُمْ یُخْسِرُوۡنَ ﴿ؕ۳﴾اَلَا یَظُنُّ اُولٰۤئِکَ اَنَّہُمۡ مَّبْعُوۡثُوۡنَ ۙ﴿۴﴾لِیَوْمٍ عَظِیۡمٍ ۙ﴿۵﴾یَّوْمَ یَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ؕ﴿۶﴾
ترجمہ کنزالایمان: کم تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ لیں پورا لیں اور جب انہیں ماپ یا تول کر دیں کم کردیں کیا ان لوگوں کو گمان نہیں کہ انہیں اٹھنا ہے ایک عظمت والے دن کیلئے جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔(پ30،المطففین:1۔6)
ایک دوسری آیت میں یوں ارشاد فرمایا کہ :
ؕاَوْفُوا الْکَیۡلَ وَ لَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الْمُخْسِرِیۡنَ ﴿۱۸۱﴾ۚوَزِنُوۡا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیۡمِ ﴿۱۸۲﴾ۚوَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیۡنَ ﴿۱۸۳﴾ۚ
ترجمہ کنزالایمان:ناپ پوراکرو اور گھٹانے والوں میں نہ ہواور سیدھی ترازو سے تولو اور لوگوں کی چیزیں کم کرکے نہ دو اور زمین میں فسادپھیلاتے نہ پھرو۔(پ19،الشعراء:181۔183)