شراب اور تاڑی کا پینا اور اِس کی تجارت کرنا اور اس کو کھانے یا لگانے کی دواؤں میں ملانا سب حرام ہے ، اور شراب و تاڑی ناپاک ہیں۔ اگر یہ بدن اور کپڑوں پر لگ جائیں تو بدن اور کپڑا ناپاک ہو جائے گا۔ اور ایک قطرہ شراب یا تاڑی کا کنویں میں گر جائے تو کنواں ناپاک ہو جائے گا اور کنویں کا کُل پانی نکال کر کنویں کو پاک کرنا ضروری ہے۔ دنیا میں تاڑی، شراب پینے والے کی سزا یہ ہے کہ اُس کو اَسّی کوڑے مارے جائیں گے اور آخرت میں اِن لوگوں کی سزا جہنم کا درد ناک عذاب ہے۔
(۸) جوا
جوا کھیلنا اور جوئے کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی حرام، اور اس کا استعمال گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ قرآن مجید کی سورئہ مائدہ میں '' اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ''(پ۷،المائدۃ:۹۰) فرما کر اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کو حرام فرما دیا ہے اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جوا کھیلنے کی حرمت اور ممانعت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
حدیث:۱
حضرت ابو موسیٰ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جو ''نرد'' (جوا کھیلنے کا آلہ) سے کھیلے اس نے اللہ